حیدرآباد بم دھماکے میں تیسرا ملزم بھی قصوروار، سزا کا اعلان ابھی نہیں ہوا

حیدرآباد میں 2007 میں ہوئے بم دھماکوں میں 42 لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

Sep 10, 2018 06:09 PM IST | Updated on: Sep 10, 2018 06:10 PM IST

حیدرآباد میں ہوئے ڈبل بم دھماکے معاملے میں پیرکومیٹروپولیٹن سیشن عدالت نے انڈین مجاہدین کے ایک مبینہ دہشت گرد طارق انجم کو قصوروارقرار دیا ہے۔ طارق انجم کو بم دھماکوں میں شامل دہشت گردوں کو پناہ دینے کا ملزم پایا گیا ہے۔ 2007 میں ہوئے ان بم دھماکوں میں 42 لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

اسی معاملے میں دو دیگرملزمین عنقیق شفیق سید اوراکبراسماعیل چودھری کو ایک دو دن میں سزا سنائی جاسکتی ہے۔ عدالت نے گزشتہ ہفتہ 4 ستمبرکو انہیں قصوروارقراردیا تھا۔ عنیق پر لمبنی پارک میں بم رکھنے کا الزام ہے، جس میں دھماکے سے 10 لوگوں کی موت ہوئی تھی جبکہ اکبر نے جو بم دل سکھ نگر میں رکھا گیا تھا، اس میں دھماکہ نہیں ہوا تھا۔ اکتوبر 2008 میں مہاراشٹر دہشت گرد مخالف دستے نے انہیں گرفتار کیا تھا۔

حیدرآباد بم دھماکے میں تیسرا ملزم بھی قصوروار، سزا کا اعلان ابھی نہیں ہوا

اگست 2007 میں حیدرآباد دو دھماکے ہوئے تھے۔

وہیں دودیگرملزمین فاروق شرف الدین اورصادق احمد شیخ کوعدالت نے ثبوتوں کی عدم فراہمی کی وجہ سے بری کردیا۔ پانچویں ملزم پرفیصلہ آئندہ ہفتہ لیا جائے گا۔ تین دیگرملزمین میں انڈین مجاہدین کا سرغنہ ریاض بھٹکل اوراس کا بھائی اقبال بھٹکل ابھی بھی فرار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد دوہرے بم دھماکے:11سال بعد فیصلہ، دو افراد مجرم قرار، دیگر دو بری

واضح رہے کہ 25 اگست 2007 کوحیدرآباد میں ایک کے بعد ایک  دو بم دھماکے ہوئے تھے۔ اس میں گوکل گھاٹ پرہوئے ایک بم دھماکے میں 32 لوگوں کی جان گئی تھی جبکہ لمبنی پارک میں ہوئے دھماکے میں 10 لوگوں کی جان گئی تھی۔ ان بم دھماکوں میں 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  اقلیتوں اور دلتوں پر حملوں کے واقعات کوسدھاکرریڈی نے ملک کےلئےتشویشناک بتایا

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز