Live Results Assembly Elections 2018

تلنگانہ میں اویسی کی حالت پتلی ، ستا رہا ہے حیدرآباد کھو جانے کا ڈر

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ چار مینار، ملاک پیٹ اور نامپلی سیٹوں پر اے آئی ایم آئی ایم کے لئے یہ کرو یا مرو کی لڑائی ہے۔

Dec 03, 2018 11:29 AM IST | Updated on: Dec 03, 2018 08:39 PM IST

حیدرآباد میں تاریخی چارمینار سے کچھ ہی دوری پر اے آئی ایم آئی ایم  لیڈر اکبر الدین اویسی تقریر کر رہے ہیں۔ اپنے ہزاروں حامیوں کے سامنے وہ اعلان کرتے ہیں کہ تلنگانہ میں بغیر ان کی پارٹی کی حمایت کے کوئی بھی پارٹی حکومت نہیں بنا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر صرف 37 ممبران اسمبلی کے ساتھ ایچ ڈی كمارسوامی کرناٹک کے وزیر اعلی بن سکتے ہیں تو میں اپنی ریاست کا چیف منسٹر کیوں نہیں بن سکتا۔ '' اکبر الدین اویسی کے اس اعلان کے ساتھ ہی وہاں موجود بھیڑ نے جم کر تالی بجائی۔

تلنگانہ میں اویسی کی حالت پتلی ، ستا رہا ہے حیدرآباد کھو جانے کا ڈر

گھر گھر انتخابی مہم چلاتے اسدالدین اویسی: فوٹو پی ٹی آئی۔

Loading...

اویسی کے اس اعلان کے ساتھ ہی ہر طرف چرچاوں کا بازار گرم ہو گیا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید تلنگانہ میں انتخابی نتائج کے بعد اویسی کے بڑے بھائی کنگ میکر کے کردار میں آ جائیں۔ لیکن اکبر الدین اویسی کے حامیوں کی مانیں تو صرف واہ واہی لوٹنے کے لئے ایسے بیان دے رہے ہیں۔ جبکہ زمینی حقیقت کچھ اور ہے۔ اس بار ان کی پارٹی کو اسمبلی انتخابات میں سخت چیلنج مل رہا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں اے آئی ایم آئی ایم کے سات ایم ایل اے تھے اور اس بار اویسی کی پارٹی آٹھ سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔

چارمینار کے قریب دکان چلانے والے الطاف علی خان کہتے ہیں، "دو مہینے پہلے چیزیں اسد الدین اویسی کی پارٹی کے حق میں تھیں۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ وہ انتخابی صورت حال کو مناسب طریقے سے سمجھ نہیں پائے۔ پارٹی کو سات نشستوں میں سے تین میں سخت ٹکر مل رہی ہے۔ انہیں حیدرآباد میں ایک مؤثر پارٹی بنے رہنے کے لئے سبھی 7 سیٹوں پر جیت درج کرنا ہو گی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: تلنگانہ انتخابات : کانگریس پاکیٹ ماروں کی پارٹی ، راہل گاندھی کبھی نہیں سمجھیں گے ہمارا درد : اسد الدین اویسی

سیاسی ماہرین بھی علی خان کی باتوں سے متفق ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چار مینار، ملاک پیٹ اور نامپلی سیٹوں پر اے آئی ایم آئی ایم کے لئے یہ کرو یا مرو کی لڑائی ہے۔ کانگریس اور ٹی ڈی پی کے اتحاد کو’ مہاکٹامی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کانگریس اور ٹی ڈی پی نے یہاں سے تین چار بڑے امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔ یہ ایسے امیدوار ہیں جو ہر مورچہ پر اویسی کو چیلنج دے سکتے ہیں۔

حیدرآباد میں نماز کے بعد لوگوں سے سلام کرتے ہوئے اویسی: فائل فوٹو: فوٹو پی ٹی آئی حیدرآباد میں نماز کے بعد لوگوں سے سلام کرتے ہوئے اویسی: فائل فوٹو: فوٹو پی ٹی آئی

ملاک پیٹ سے ٹی ڈی پی کے امیدوار مظفر علی خان میدان میں ہیں۔ نامپلی سے کانگریس کے فیروز خان الیکشن لڑ رہے ہیں۔ جبکہ چار مینار سے کانگریس کے محمد غوث ہر کسی کو چیلنج دے رہے ہیں۔ سیاسی امور کے ماہر سید سجادالحسن نے نیوز 18 سے کہا کہ دو سے تین سیٹوں پر اس بار سخت مقابلہ ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا، "میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے آئی ایم آئی ایم ہار رہی ہے۔ " لیکن اگر وہ سبھی سات نشستوں پر بازی مار بھی لیتی ہے تو بھی جیت کا فاصلہ زیادہ نہیں ہو گا۔ انتخابی مہم کی حکمت عملی بھی بدل گئی ہے۔ اب پارٹیاں ترقی کی بات کر رہی ہیں نہ کہ مذہب کی‘‘۔

سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ اگر اے آئی ایم آئی ایم وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راو کی پارٹی ٹی آر ایس کو حمایت بھی دیتی ہے تو یہ اس کے لئے فائدہ یا نقصان دونوں طرح کا سودا ہو سکتا ہے۔ حیدرآباد کے سینئر صحافی مبشرالدین کا کہنا ہے کہ ’’ مسلمانوں کو لگتا ہے کہ کے سی آر دلی میں بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ جبکہ انہیں یہاں اے آئی ایم آئی ایم سے حمایت مل رہی ہے۔ پہلی بار کئی مسلمان اویسی کے کمٹمنٹ پر سوال اٹھا رہے ہیں‘‘۔

اسدالدین اویسی بی جے پی کے ایجنٹ ہونے کے دعووں کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو لوگ بھی بے جے پی کے خلاف ہیں وہ کانگریس کی قیادت میں الیکشن لڑیں۔ انہوں نے کہا’’ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں راہل گاندھی کو 120 سیٹیں جیتنے دیجئے۔ ہم لوگ بی جے پی سے لڑیں گے۔ ہمیں ان کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

حیدرآباد میں مسلمانوں کے مقابلہ میں ہندووں کی تعداد زیادہ ہے۔ نئے ڈیٹا کے مطابق، یہاں سات اسمبلی سیٹوں پر 52 فیصد ہندو ہیں جبکہ 46-48 فیصد مسلمان۔ پچھلے انتخابات میں یہاں اے آئی ایم آئی ایم نے ہمیشہ دوسری بڑی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ کانگریس اور ٹی ڈی پی کے درمیان ہندو ووٹ کی تقسیم کے مدنظر یہاں اے آئی ایم آئی ایم کو ہمیشہ جیت ملی ہے لیکن اس بار حالات مختلف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تلنگانہ انتخابات: اویسی کا سنگین الزام، کانگریس نے ریلی منسوخ کرنے کے لئے 25 لاکھ کا دیا آفر

تلنگانہ میں بی جے پی کا بول بالا نہیں۔ لیکن اس کے باوجود پارٹی حیدرآباد کے آس پاس زوردار انتخابی تشہیر چلا رہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی ٹی آر ایس اور اے آئی ایم آئی ایم کے خلاف لوگوں کے ووٹ کو بانٹنے کا کام کر رہی ہے جس سے کہ چندرابابو نائیڈو کی ہار ہو۔ آپ کو بتا دیں کہ بی جے پی سے الگ ہو کر ہی نائیڈو نے کانگریس کے ساتھ گٹھ بندھن کیا ہے۔

بی جے پی کو یہاں پانچ سیٹوں پر جیت کی امید ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا ماننا ہے کہ بی جے پی کو یہاں کم از کم تین سیٹوں پر جیت مل سکتی ہے۔ حیدرآباد میں عام طور پر 65 فیصدی ووٹنگ ہوتی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اگر یہاں زیادہ ووٹنگ ہوئی تو پھر اے آئی ایم آئی ایم کو نقصان ہو سکتا ہے۔

ڈی پی ستیش کی رپورٹ  

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز