عیدا لاضحی پر صرف بکروں کی قربانی کی جائے ، فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی علماء و مشائخ کی اپیل

شہرحیدرآباد کی مختلف سماجی، مذہبی تہذیبی نمائندوں اور علمائے کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ بقرعید کے موقع پر بکرے کی قربانی کو اولین ترجیح دیں

Aug 20, 2017 09:03 PM IST | Updated on: Aug 20, 2017 09:03 PM IST

حیدرآباد : شہرحیدرآباد کی مختلف سماجی، مذہبی تہذیبی نمائندوں اور علمائے کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ بقرعید کے موقع پر بکرے کی قربانی کو اولین ترجیح دیں اور ملک کے موجودہ حالات فرقہ پرست عناصر کے مذموم عزائم کے پیش نظر بڑے جانوروں کی قربانی سے گریز کریں۔

میڈیا پلس آڈیٹوریم میں آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید حامد حسین شطاری ترجمان آل انڈیا سنی علماء بورڈ، ڈاکٹر سید آصف عمری نائب امیر جمعیت اہل حدیث حیدرآباد و سکندرآباد، حکیم صوفی سید شاہ محمد خیرالدین قادری، محمد محامد علی شاہ منہاج قادری اور سید ایوب پاشاہ قادری نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ پر جذباتی نہ ہوں‘ اور دور اندیشی مصلحت کوشی کا مظاہرہ کریں۔ بڑے جانوروں کی قربانی سے اجتناب‘ مسلمانوں کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی کشادہ دلی اور ریاست اور ملک میں امن و امان کی برقراری کے لئے پیش رفت و ایثار ہے۔ صلح حدیبیہ کی مثال کو سامنے رکھا جائے‘ وقتی طور پر حالات سے سمجھوتہ کرنے کے مستقبل میں بہتر اور مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔

عیدا لاضحی پر صرف بکروں کی قربانی کی جائے ، فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی علماء و مشائخ کی اپیل

file photo

اِن رہنماوں نے بتایا کہ مسلمانوں سے اپیل کا یہ فیصلہ 2؍اگست 2017ء کو اردو گھر مغل پورہ میں مذہبی، سماجی، کل جماعتی مشاورتی اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ نظامیہ سے 18؍اگست کو فتویٰ بھی حاصل کیا گیا کہ کوئی خاص قسم کی جانور فراہم نہ ہونے کی صورت میں یا اس کو حاصل کرنے میں نقصان کا اندیشہ ہو تو جو جانور نر یا مادہ میں سے جو مل سکے اس کی قربانی دی جاسکتی ہے۔

اُن علمائے کرام نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے جانوروں کو بازار میں فروخت کرنے پر حکومت ہند کے امتناع کو کالعدم قرار دینے کے باوجود آئے دن ملک بھر کے مختلف مقامات سے جانوروں کی منتقلی کو بعض فرضی نام نہاد تنظیموں کی جانب سے رکاوٹوں اور ہجوم کی شکل میں مسلمانوں پر کئے جارہے حملوں پر کوئی روکنے والا نہیں‘ حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں محض تیقن دیتی ہیں۔ لیکن عملاً کوئی ٹھوس اقدام نہیں کرتی مسلم تاجروں اور عامۃ المسلمین میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا ہی جارہا ہے۔

عیدالضحیٰ کے موقع پر دی جانے والی قربانی خالص دینی فریضہ ہے۔ تاہم بعض گوشوں سے عید قربان کے سلسلہ میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی کے مطالبات اور بعض ریاستوں میں بڑے جانور بیل، بھینس، بچھڑے اور اونٹ کی قربانی پر امتناع عائد کئے جانے کے بعد قربانی دینے والے عام مسلمانوں اور دینی مدارس کے انتظامیہ میں کافی تشویش پائی جاتی ہے‘ ان حالات میں ریاست تلنگانہ کے علماء، مشائخ اہل مدارس دینیہ کے ذمہ داروں اور مذہبی سماجی تنظیموں کے رہنماوں نے یہ اہم فیصلہ کیا ہے اور عامۃ المسلمین سے اپیل کی ہے کہ وہ عید قرباں کے موقع پر ایثار کا مظاہرہ بھی کریں تاکہ فرقہ پرست عناصر کی ہر سازش ناکام ہوسکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز