اردو ادب اور تصوف کا رشتہ روز اول سے، اردو کا اولین ادب تصوف سے ہی متاثر

May 30, 2017 12:32 PM IST | Updated on: May 30, 2017 12:32 PM IST

گلبرگہ۔ ماہرین ادب کا کہنا ہے کہ تصوف اور اردو ادب کا رشتہ روز اول سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین  نے کہا کہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اردو کا اولین کلام تصوف  کی ہی ترجمانی کرتا ہے۔ کرناٹک اردو اکیڈمی کے تحت گلبرگہ میں منعقدہ سمینار میں مقالہ نگاروں نے اردو ادب میں تصوف  پر روشنی ڈالی ۔ مقررین نے کہا کہ  موجودہ دور میں تصوف کو غلط طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس لئے عوام میں اسکی تصویر مسخ ہو رہی ہے۔

 ادب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اردو ادب میں تصوف کے جمالیات اور رومانیت کی ایک بڑی تاریخ رہی ہے۔  تصوف فارسی ادب سے متاثر ہو کر اردو ادب  میں داخل ہوا ہے۔ اردو میں بھی کئی ایک شعرا نے تصوف میں قلم  آزمائی کی  ہے۔ اقبال، غالب،امیر مینائی، اصغر گونڈوی، امجد حیدرآبادی نے تصوف میں کافی شعر کہے ہیں ۔ تصوف اور فلسفے میں کئی ایک باتیں مشترک ہیں۔ دونوں میں کائنات اور حیات کے اسرار کو سمجھنے پر زور دیا جاتا ہے۔

اردو ادب اور تصوف کا رشتہ روز اول سے، اردو کا اولین ادب تصوف سے ہی متاثر

ری کمنڈیڈ اسٹوریز