تلنگانہ : تمام اضلاع کے کلکٹریٹ میں اردو مترجمین کی بحالی کا اعلان ، دو ماہ میں ہوں گی تقرریاں 

Nov 09, 2017 06:43 PM IST | Updated on: Nov 09, 2017 06:43 PM IST

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھرراو نے اقلیتوں کی فلاح وبہبود کی سمت ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ریاستی اسمبلی میں کئی اہم اعلانات کئے۔ انہوں نے اسپیکراسمبلی ،کونسل کے چیئرمین ، ان کے خود کے دفتر کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع کے کلکٹرس کے دفاتر میں اردو مترجمین کی تقرری کا اعلان کیا ۔انہوں نے اسمبلی میں اس مسئلہ پراظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیشرو حکومتوں کی جانب سے صرف اعلانات کئے گئے وہ اس پر عمل کرکے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون دو ماہ یہ تقرریاں کی جائیں گی جس کے لئے طریقہ کار کو عنقریب حتمی شکل دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے ۔ انہیں زندگی کے ہر شعبہ میں آگے لے جانے کے لئے حکومت ہر ممکنہ اقدامات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اردو اسکولوں کی مخلوعہ 900آسامیوں پر تقرری کے اقدامات بھی کئے جارہے ہیں۔نائب وزیراعلی کڈیم سری ہری نے اس سلسلہ میں حالیہ دنوں اساتذہ کی 8000سے زائد آسامیوں پر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ۔ ان میں900اردو ٹیچرس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 4فیصد ریزرویشن کے تحت مزید350اردو اساتذہ کی ملازمتوں پر تقرری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اردو کو تمام سرکاری محکموں میں بول چال کے ساتھ تحریری زبان کے طور پر قبول کرنے کے لئے ریاست بھر میں66اردو داں افسروں کی تقرری کا فیصلہ کیا گیا۔ 60دن کے اندر ان ملازمتوں پر تقرریاں عمل میں لائی جائیں گی جن میں وزیراعلی کے دفتر میں دو آسامیاں ‘جی اے ڈی کے دفتر میں4‘ ریاستی وزراء کے دفتر میں17‘31اضلاع میں ایک ‘ ایک اردو افسر کی تقرری کی جائے گی۔

تلنگانہ : تمام اضلاع کے کلکٹریٹ میں اردو مترجمین کی بحالی کا اعلان ، دو ماہ میں ہوں گی تقرریاں 

کے چندرشیکھرراو: فائل فوٹو، پی ٹی آئی

اس کے علاوہ اسپیکر اسمبلی چیرمین قانون ساز کونسل ‘اسپیکر اسمبلی کے دفتر میں ایک ‘ اسمبلی میں 2‘ کونسل میں 2‘ چیرمین قانون ساز کے دفتر میں ایک ‘ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے دفتر میں ایک ‘ چیف سکریٹری کے دفتر میں ایک ‘ ڈی جی پی اور کمشنر پولیس کے دفتر میں ایک ‘ ایک اردو داں افسر کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔ یہ افسر اردو میں عرضیوں کو قبول کریں گے اور متعلقہ افسراور وزراء کو اردو سے متعلق موصول ہونے والی عرضیوں اور مسائل سے واقف کروائیں گے ۔

چندرشیکھرراؤ نے کہا کہ قومی سطح پر ایم بی بی ایس کورسس میں داخلوں کے لئے مرکزی حکومت نیٹ امتحان منعقد ررہی ہے ۔ اردو زبان میں بھی نیٹ امتحان کو منعقد کرنے کی خواہش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط روانہ کیا گیاتھا۔ مرکزی حکومت نے ان کے خط پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے آئندہ سال سے اردو میں بھی نیٹ امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو سرکاری جونیر کالجس میں سیلف فائنانس کورس کو ختم کردیا گیا ہے۔ ریاست کے 35تا40کالجس میں سیلف فائنانس کورسس کو گزشتہ روز ہی ختم کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری محکمہ تعلیم کو سونپ دی گئی ۔ اس سلسلہ میں احکامات بھی جاری کردیئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے معاملہ میں ان کی حکومت پابند عہد ہے ۔

گزشتہ روز مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی کی جانب سے مختلف اوقافی جائیدادوں کی نشاندہی کے بعد انہوں نے اعلی افسروں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی تھی لیکن اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کی زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے ۔ لاکھوں اور ہزاروں کروڑ کی اوقافی جائیدادیں پائے جانے کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن یہ زمین کس جگہ ہے کسی کو پتہ نہیں ۔ ریاست کی مکمل اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات بہت جلد سامنے آنے والی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اراضیات سے متعلق جو جامع سروے کروایا جارہا ہے اس کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات بھی سامنے آئیں گی۔

اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کی جانچ اور باقی بچنے والی جائیدادوں کے تحفظ کے لئے چیف سکریٹری پر مشتمل اعلی عہدیداروں کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ مسٹر راو نے کہا کہ اردو اکیڈیمی اور حج کمیٹی کی تشکیل کے معاملہ میں حکومت سنجیدہ ہے لیکن ریاست کی تنظیم نو قانون کے مطابق یہ دو ادارے دسویں شیڈول کے تحت آتے ہیں جس کے سبب ان اداروں کی تنظیم جدید نہیں ہوسکی ۔ تاہم حج امور کو انجام دینے کے لئے حکومت نے افسروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ یہ کمیٹی گزشتہ تین برسوں سے بہتر انداز میں حج امور کو انجام دے رہی ہے۔ گزشتہ پارلیمنٹ کے سیشن میں اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے بھی تلنگانہ حج کمیٹی کی کارکردگی کی کافی ستائش کی ۔

انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈیمی کو بھی بہتر بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اردو کمپیوٹرسنٹرس میں 15سال پرانے کمپیوٹرس ہیں جو غیرکارکرد ہوگئے ہیں۔ عنقریب اردو اکیڈیمی کو بھی فعال بناتے ہوئے اس سے زیادہ سے زیادہ افراد کو مستفید کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھراپردیش میں اردو اکیڈیمی اور کمپیوٹر سنٹرس میں بھی آوٹ سورسنگ کے تحت ملازمین کی خدمات حاصل کیں۔ان میں چند ملازمین کی خدمات ہی ریگولر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب ملک بھر میں شہرت رکھتی ہے۔

مہاتماگاندھی سے لے کر کئی شخصیتوں نے یہاں کی گنگاجمنی تہذیب کی کافی ستائش کی ۔ کاکتیہ حکمرانوں کے بعد 750سال تک اس علاقہ میں مسلم حکمران اقتدار پر تھے لیکن ان برسوں میں ایک مرتبہ بھی فرقہ وارانہ تشدد یا فساد نہیں ہوا۔ متحدہ آندھراپردیش میں چند ایک فرقہ وارانہ فسادات پیش آئے تھے اس وقت تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت ریاست کی اس تہذیب کو دوبارہ زندہ کرنے کے اقدامات کررہی ہے اسی کے ایک حصہ کے طور پر عید ‘بونال ‘کرسمس جیسی تقاریب کو سرکاری سطح پر اہتمام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی گنگاجمنی تہذیب کی واضح مثال اسمبلی میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں مجلس کے فلور لیڈر اکبرالدین اویسی مندروں کی زمین کے تحفظ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی سی رامچندرریڈی مساجد کے امام و موذنین کو اعزازیہ دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اسی طرح کمیونسٹ رکن اسمبلی سی راجیا مندروں کی ترقی کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ دیگر اقلیتوں بشمول عیسائیوں ‘ سکھ کی ترقی کی بھی حکومت پابند عہد ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز