اکیسویں صدی میں بھی یہاں لوگوں کو ایک گھڑا پانی کیلئے طے کرنا پڑتا ہے میلوں کا سفر

شمالی کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع میں لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور دو گھڑے پانی کے لیے میلوں کا سفر طے کرنا پڑرہا ہے ۔

Mar 24, 2017 09:23 PM IST | Updated on: Mar 24, 2017 09:23 PM IST

باگل کوٹ : شمالی کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع میں لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور دو گھڑے پانی کے لیے میلوں کا سفر طے کرنا پڑرہا ہے ۔ یہی نہیں ـ پانی کے حصول کیلئے انہیں کو گھنٹوں بجلی کا بھی انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ـ

باگلکوٹ ضلع کے بادامی تعلقہ میں بندکیری نامی دیہات میں تقریباً ایک ہزار افراد ہیں ۔ ـ یہاں کے لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کی غرض سے دو بورویل کھودے گئے ، لیکن خشک سالی کی صورتحال سنگین ہوجانے کے نتیجہ میں ایک بورویل خشک ہوگیا ہے ، جبکہ دوسرے بورویل میں پانی کم ہوگیا ہے ، ـ جس کی وجہ سے لوگوں کو صرف ایک ہی بورویل کے پانی پر انحصار کرنا پڑرہا ہے ۔

اکیسویں صدی میں بھی یہاں لوگوں کو ایک گھڑا پانی کیلئے طے کرنا پڑتا ہے میلوں کا سفر

ـ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اس دیہات میں صاف ستھرا پینے کے پانی کا یونٹ قائم کیا گیا تھا ، لیکن اس یونٹ میں پانی کی سپلائی روک دی گئی، جس کے سبب لوگ صاف ستھرا پانی کے باوجود بورویل کا پانی ہی پینے کے لبے مجبور ہیں ـ

مقامی لوگوں کے مطابق اس سلسلے میں مقامی افسروں کو بھی اطلاع دی جاچکی ہے ، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ ـ بجلی کی سپلائی نہیں کی گئی ، جس کی وجہ سے لوگوں کو پانی کے لیے در در بھٹکنا پڑتا ہے۔ ـ یہاں پانی کی شدید قلت ہے ۔ـ پنچایت افسران بھی پانی کا مسئلہ حل کرنے میں لاپروائی برت رہے ہیںـ۔ بجلی کی مدد سے ہی پانی بھرا جاتا ہے اور ـ گھنٹوں انتظار کے بعد دو گھڑے پانی ملتا ہے ۔ ـ بجلی کی سپلائی نہ ہونے کی صورت میں لوگوں کو امیروں کے کھیتوں اور باغوں کا رُخ کرنا پڑتا ہے ۔ ـ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز