گُڈکیری دیہات کے لوگوں کو ایک گھڑا پانی کے لیے طے کرنا پڑتا ہے آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ

Feb 08, 2017 07:11 PM IST | Updated on: Feb 08, 2017 07:11 PM IST

کوپل / بنگلورو۔ گرمی کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی کرناٹک کے کئی مقامات پر پانی کی قلت پیش آرہی ہے ـ کوپل تعلقہ کے گُڈگیری دیہات کے لوگوں کو تقریباً آٹھ کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے ایک گھڑا پانی حاصل کرنا پڑرہا ہے ـ  اسکولی بچوں کو بھی بوند بوند پانی کے لیے ترسنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ـ  مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ یہاں پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے ـ گاؤں میں ایک ٹینک ہے لیکن وہ پانی پینے کے قابل نہیں ہے وہیں ڈپٹی سکریٹری، ضلع پنچایت کوپل کا کہنا ہے کہ گاؤں میں پینے کے پانی کا یونٹ قائم کیا گیا ہے اس کے باوجود لوگ یہاں کا پانی استعمال نہیں کررہے ہیں ـ فلٹر کا پانی حاصل کرنے کے متعلق عوام میں بیداری لائی جا رہی ہے ـ

گُڈکیری دیہات میں پینے کا پانی فراہم کرنے کیلئے راجیو گاندھی سب مرسیبل منصوبہ جاری کیا گیا ہے ـ اس منصوبہ کے تحت کوپل کے اطراف و اکناف کے لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا تھا لیکن تُنگبھدرا ندی میں پانی خشک ہوجانے کی وجہ سے لوگوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ـ پینے کے پانی کے معاملہ میں حکومت کو مناسب اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ـ

گُڈکیری دیہات کے لوگوں کو ایک گھڑا پانی کے لیے طے کرنا پڑتا ہے آٹھ کلومیٹر کا فاصلہ

کوپل تعلقہ کے گُڈگیری کے دیہاتیوں کو ہر سال گرمی کے موسم میں پینے کے پانی کی قلت پیش آتی ہے ـ اس سال یہاں خشک سالی کی صورتحال سنگین ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو پندرہ دنوں میں ایک مرتبہ پانی سپلائی ہورہا ہے ـ  پانی حاصل کرنے کے لیے اس دیہات کے لوگوں کو میلوں کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے ـ یہاں کے لوگ پانی کے لیے ترس رہےہیں ـ اس سلسلے میں ضلع پنچایت کے ڈپٹی سکریٹری این کے توروی کا کہنا ہے کہ گُڈکیری دیہات میں پانی کا مسئلہ درپیش ہے ـ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے پینے کے پانی کا یونٹ قائم کیا گیا ہے لیکن لوگ اس پانی کا استعمال نہیں کررہے ہیں ـ

water1

دوسری طرف مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ دیہات میں کہیں بھی پینے کے پانی کا یونٹ قائم نہیں ہوا ہے ـ عوامی نمائندے اور افسران اس دیہات میں پینے کا پانی فراہم کرنے میں لاپرواہی کررہے ہیں ـ

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز