کیوں اتحاد چھوڑنے کا دم نہیں دکھا سکے چندر بابو نائیڈو؟

Mar 09, 2018 03:12 PM IST | Updated on: Mar 09, 2018 03:43 PM IST

آندھرا پردیش۔"خوابوں کے سودا گر"چندر بابو نائیڈو کا داؤ الٹا پڑ گیا ہے۔آندھرا پردیش کو سنگا پور بنانے کا خواب دکھاتے دکھاتے 4 سال گزر گئے۔جب ان کا خواب اینیمیشن ،گرافکس اور پاور پوائنٹ پرزنٹیشن سے آگے نہیں بڑھ پایا اور وعدے زمین پر کھوکلے نظر آنے لگے تو انہوں نے اپنے ہی دو وزیروں کی قربانی دیکر چہرہ بچانے کی کوشش کی ہے۔

دونوں وزیر کے استعفیٰ سے ٹھیک پہلے پی ایم نریندر مودی سے چندر بابو نائیڈو کی لمبی بات چیت ہوئی۔یہ بات چیت سب سے اہم ہے۔ذرائع کے مطابق تو چندر بابو نائیڈو نے پی یام سے یہاں تک کہاکہ کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے انہٰں عوام کو بتانے کیلئے کچھ مل جائے۔نائیڈو چاہتے تھے کہ ،مرکزی مدد کو صرف اسپیشل اسٹیٹس کا نام دے دیا جائے۔لیکن پی ایم مودی نے وہی کہا جو ایک سن پہلے ارون جیٹلی  پریس کانفرنس کر کے کہہ چکے تھے۔آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن اقتصادی مدد دی جائیگی لیکن اسے اسپیشل اسٹیٹس کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

کیوں اتحاد چھوڑنے کا دم نہیں دکھا سکے چندر بابو نائیڈو؟

آندھراپردیش کے وزیر اعلی این چندربابونائیڈو: فوٹو کریڈٹ، گیٹی امیجیز۔ ۔ فائل فوٹو

نائیڈو نے بار۔بار اپنی سیاسی مجبوری کا حوالہ دیا لیکن پی ایم مودی اپنی بات پر قائم رہے۔آخر کار یہ طے ہوا کہ مرکز مین ٹی ڈی پی کے وزیر وائی ایس سجنا چودھری اور اشوک گج پتی راجو اپنا استعفیٰ سونپ دیں۔دونوں وزرا نے پی ایم مودی کو استعفیٰ سونپ دیا لیکن استعفیٰ کے فوراً بعد وائی ایس سجنا چودھری نے میڈیا سے کہا کی اتحاد قائم ہے اور گٹھ بندھن میں رہتے ہوئےندھرا پردیش کو اس کا ھْ دلانے کی کوشش جاری رہے گی۔سجنا چودھری نے یہ بھی کہا کہ استعفیٰ عوام کے جذباتوں کو دھیان میں رکھ کر دیا گیا ہے۔

سجنا چودھری کی ان باتوں کے معنی ہیں ۔ظاہر طور پر سجنا چودھری اپنے لیڈر چندر بابو نائیڈو سے بات چیت کے بعد ایسا بیان دے رہے تھے۔نائیڈو منجھے ہوئے سیاسی لیڈر ہیں۔وہ مشکل گھڑی کو موقع مین بدلنا جانتے ہیں۔چندر بابو نائیڈو کے ایک قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر بتایا کہ نائیڈو کسی بھی حال میں جگن موہن ریڈی کو راستی نہیں دینا چاہتے۔وہ بھی تب جب چناؤ میں ایک ہی سال کا وقت باقی ہے۔دوسرا نائیڈو خود کو متاثر کی طرح پیش کرکے سارا ٹھیکرا بی جے پی اور مرکزی حکومت کے سر پھوڑنے کی کوشش کریں گے۔تیسرا نائیڈو اس دن کا انتطار بھی کرنا چاہتے ہیں جب شاید حالات بدلیں اور بی جے پی کچھ مجبور نظر آئے۔اگر ایسا ہوتا ہے تو اس وقت نائیڈو پہلے بہتر طریقے سے مول بھاؤ کریں گے۔اگر نہیں ہو سکا تو اس وقت اتحاد توڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ایسے میں نائیڈو جیت کی  قیمت لیکر عوام کے درمیان چناؤمیں اتر پائیں گے۔

عثمانیہ یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس مھکمہ کے پروفیسر رہے ایس سمہاردی کے مطابق بی جے پی کو ساتھ لیکر ٹی ڈی پی انتخاب میں نہیں جانا چاہیگی۔بلکہ وہ آندھرا کے خوابوں کو توڑنے کا تھیکرا بی جے پی کے سر پھوڑ کر چناؤ میں اترنا چاہیگی۔سوال صرف اس بات کا ہے کہ اتحاد کب توڑا جائے۔ٹی ڈی پی صرف صحیح وقت کا انتظار کریگی۔

دوسری جانب آندھرا پردیش میں بی جے پی کے  مقامی لیڈر اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ٹی ڈی پی سے گٹھ بندھن توڑ کر چناؤ میں یا تو بی جے پی اپنے دم پر اترے یا پھر جگن موہن  ریڈی کے ساتھ سمجھوتہ کرے۔بی جے پی کو لگتا ہیکہ ٹی ڈی پی  کے ساتھ اتحاد میں رہ کر پارٹی کی توسیع ممکن نہیں ہے۔پارٹی کے پاس آندھرا میں بڑے چہرے نہیں ہیں۔مقامی کاڈر مانتا ہیکہ جگنموہن ریڈی اس وقت اکیلے ہیں۔ان کے خلاف بد عنوانی کے کئی معاملے چل رہے ہیں۔ایسے میں جگن موہن ریڈی بی جے پی ے زیادہ سیٹوں کیلئے مول بھاؤ نہیں کر پائیں گے۔ان کو ساتھ لیکر بی جے پ کو آندھرا پردیش میں توسیع کرنے کا بہت زیادہ موقع ملے گااور ساتھ ہی ساتھ پارٹی چندر بابو نائیڈو حکومت کے اینٹی ان کنبینسی فیکٹر سے بھی آسانی سے بچ جائیگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز