دبئی میں شادی ہوئی اس ہندوستانی مسلم لڑکی کو، عصمت فروش بنا دینا چاہتا تھا اس کا شوہر

عالیہ بھوپال میں اپنے خاندان کے ساتھ خوشی خوشی رہ رہی تھی۔ 19 سالہ عالیہ کالیج میں داخل ہو چکی تھی اور دوسری جانب اس کی شادی کی باتیں شروع ہو گئیں۔

Jun 10, 2018 10:30 AM IST | Updated on: Jun 10, 2018 10:55 AM IST

عالیہ بھوپال میں اپنے خاندان کے ساتھ خوشی خوشی رہ رہی تھی۔ 19 سالہ عالیہ کالیج میں داخل ہو چکی تھی اور دوسری جانب اس کی شادی کی باتیں شروع ہو گئیں۔ گھروالوں نے جو لڑکا اس کے لئے پسند کیا تھا وہ دبئی میں بڑا کاروباری تھا۔ دبئی میں رہنا عالیہ کے لئے خواب بن گیا اور حقیقت بننے والی تھی دبئی سے کسی بھی طرح سے بھاگ کر ہندوستان واپس آجانا۔

سال 2002 میں بھوپال کی عالیہ کالیج میں پڑھ رہی تھی تبھی اس کے ڈاکٹر والد نے ایک خاندان میں رشتہ کی بات شروع کی۔ عالیہ کی بڑی بہن سعودی عرب میں شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ رہ رہی تھی۔ بھوپال میں عالیہ اپنی دماغی طور پر کمزور ایک بڑی بہن اور ایک چھوٹی بہن  اور اپنے والدین کے ساتھ رہتی تھی۔ اس کے ڈاکٹر والد  بھوپال میں کافی مشہور تھے۔

دبئی میں شادی ہوئی اس ہندوستانی مسلم لڑکی کو، عصمت فروش بنا دینا چاہتا تھا اس کا شوہر

عالیہ کی شادی کے طے ہوتے ہی عالیہ اپنے ہونے والے شوہر رئیس کے ساتھ فون  پرباتے شروع ہو گئی۔ پھر کچھ ماہ بعد ان دونوں کی شادی ہوئی اور عالیہ بھوپال سے دبئی چلی گئی۔ آلیشان گھر میں پہنچ کر عالیہ خد کو قسم والی سمجھ تھی۔ اس بڑے سے گھر کی بالکنی میں اکثر امیر شیخ اور پٹھان آتے جاتے دکھتے تھے، رئیس اکثر عالیہ کے ساتھ بالکنی میں چائے ناشتہ کرتا یا اسے کوئی بھی بات کرنی ہو تو بالکنی میں ہی آکر کرتا ، بہت کم وقت میں ہی اس بالکنی کی جانب دیکھنے والے لوگوں کے چہرے پر غلط امپریشن دیکھ کر عالیہ نے اس بالکنی میں زیادہ دیر رہنے سے منع کیا لیکن رئیس نے یقین دلایا کہ سب ٹھیک ہے ۔

دو تین ہفتہ گزر گئے شادی کو، رئیس کے بالوں کا رنگ غائب ہونے لگا اور مسلسل کئے جانے والے میک اپ کے پیچھے چھپا رئیس کا اصل چہرا بھی واضح ہونے لگا۔ عالیہ کا دل بیٹھ گیا جب اسے پتہ چلا کی رئیس کی اصلی عمر 40 سال سے زیا دہ ہے۔ اپنے سے دو گنا زیادہ عمر کے آدمی سے شادی ہو جانے کی کشمکش  میں ابھی تھی ہی کہ اس کے سامنے رئیس کا ایک اور راز فاش ہوا کہ رئیس کوئی کاروباری نہیں ہے، بہت معمولی تنخواہ والی نوکری کرتا ہے۔ عالیہ کی پریشانی بڑھ گئی۔

marriage1

عالیہ کے سامنے ایک اور پریشانی ہو گئی تھی ، رئیس نے گھر سے فون کا کنیشن ہٹوا دیا تھا تو وہ اپنے گھر پر بھر کسی سے رابطہ نہیں کر سکتی تھی ۔ اس درمیان ، عالیہ نے آس پا س کی خواتین سے جان پہچان بڑھانی شروع کی۔ رئیس نے عالیہ کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا لیکن وہ نہیں مانی۔

عالیہ کی تمام ہرکتیں دیکھ کر سمجھ گیا کہ عالیہ کو شک ہو چکا ہے، تو وہ بھی جلد بازی کرنے لگا۔ رئیس ایک روز عالیہ کو اپنے آفس لے گیا اس دلاسے سے کہ وہ پڑھی لکھی ہے تو اسے بھی کوئی نوکر مل سکتی ہے۔ عالیہ کو بھی یہ ٹھیک لگا اور وہ اس کے ساتھ چلی گئی۔ اس آفس میں تمام مردوں کی نظریں عالیہ کو غلط معلوم ہو رہی تھیں۔

آفس سے واپس آتے ہی عالیہ نے وہاں کوئی بھی کام کرنے سے منع کیا تو رئیس اسے ڈانٹنے لگا اور اس سے کہا کہ اس کا باس بہت پہنچا ہوا اور امیر ہے، اگر عالیہ اس کے ساتھ کام کرے تو بہت پیسہ مل سکتے ہیں۔ اس بات پر جب بہث زیادہ بڑھ گئی تب رئیس نے اسے بیاتا کہ اس نے عالیہ سے شادی محض اسلئے کی تھی تاکہ وہ اسے پیسہ کما کر دے سکے۔

عالیہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ۔ سارے خواب ٹوٹ چکے تھے ۔ وہ روتی رہی اور رئسی نے اس کے ساتھ زبردستی کرنی شروع کی۔ پہلے بلکنی میں عالیہ کو کھڑا کرتا اور عالیہ سے کہتا کہ آنے جانے والے مردوں کو وہ پٹائے۔ توکبھی اپنے باس کے سامنے عالیہ کے جسم کی نمائش کرواتا۔

اس کے بعد مار پیٹ کا سلسلہ شروع ہوا۔ رئیس روز بہ روز عالیہ کو بیچ دینے کی دھمکی دیتا اور مار پیٹ کرتا اسے جسم فروشی  کے لئے مجبور کرتا۔ ایک روز کسی طرح اپنے پڑوس میں رہنے والی رخسار آپا سے اپنی حالت بیان کی اور ان سے منتے کری کی وہ اسے بچا لیں۔

یہاں عالیہ کی قسمت نے اس کاساتھ دیا ۔ انہوں نے خاموش طریقہ سے کچھ ہی دنوں میں عالیہ کے لئے تمام انتظامات کروا دئے ۔ اس دن عالیہ رئیس سے چھپتے چھپاتے کسی طرح ائرپورٹ پہوچی اور دہلی کی فلائٹ پکڑی۔ جب تک فلائٹ نہیں اڑی تک عالیہ کو یہی ڈر لگا رہا کہ کہیں کوئی پیچھے سے آکر اسے پکڑ نہ لے جائے۔

marriage3

دہلی سے بھوپال پہنچ کر عالیہ نے اپنے خاندان والوں کو اپنی کہانی سنائی تو فوری طور پر رئیس کی ماں کو پکڑوانے کے لئے اس کے والد نکلے لیکن اس پتے پر کوئی نہیں تھا۔ وہ خاتون اور اس کی بیٹی گائب ہو چکے تھے جنہوں نےرشتہ لگنے کے دوران رئیس کی ماں اور بہن اپنے آپ کوبتایا تھا۔

جنسی اور ذہنی تکلیف کا سامنا کر چکی عالیہ اپنی یادوں اور تجربات سے اندر تک زخمی ہو چکی تھی۔ طویل وقت تک اس کا علاج چلتا رہا۔اس پورے واقعہ سے گزرنے کے بعد عالیہ کم بولنے لگی ہے، سوشل میڈیا سے غائب اور صرف خاص لوگوں میں ہی ملتی جلتی ہے۔ وہ ایک طرح سے خود میں ہی قید ہو کر  رہ گئی ہے۔ اپنا اصل نام نہ بتانے کی حالت پر یہ کہانی عالیہ دوست رہیں مدھیہ پردیش کی رہنے والی دیکشا منیش نے نیوز 18 سے خاص طور پر شیئر کی۔

غور طلب ہے کہ عبر ممالک میں ہندوستان کے کئی علاقوں سے لڑکیوں کو شادی کے نام پر جسم فروشی کے کاروبار میں دھکیل دئے جانے کی کہانیاں طویل عرصہ تک خبروں میں رہی ہیں۔ لیکن اب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے۔ کبھی غریب لڑیوں کو باقائدہ بیچا جاتا ہے تو کبھی خاندان کو دھوکہ دے کر ایسی واقعہ کو انجام دیا جاتا ہے۔

 

 

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز