جرمنی میں خودکشی کو ذاتی حق تسلیم کرتے ہوئے اس کی مشروط اجازت

Mar 03, 2017 07:09 PM IST | Updated on: Mar 03, 2017 07:09 PM IST

پیرس: جرمنی میں غیر معمولی حالات میں قانونی خودکشی کے لئے ایک ایسی دوا تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے استعمال سے موت واقع ہو جائے گی۔ عدالت نے بہر حال اس اجازت کو انتہائی سخت شرطوں سے مشروط بھی کر دیا ہے۔ وفاقی انتظامی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ انتہائی بیمار اور لاعلاج مریضوں کو خاص حالات کے تحت یہ رسائی فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ وہ کسی تکلیف کے بغیر آسانی سے مر سکیں۔

لائپزگ کی عدالت نے کل یہ فیصلہ سنایا ہے جس میں کہا گیا کہ ایسی خودکُشی کرنے کی اجازت انتہائی مخصوص حالات میں دی جائے گی۔ ججوں نے یہ فیصلہ جرمن آئین کی شق نمبر دو میں موجود ہر شہری کے ذاتی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے سنایا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح اپنی زندگی خود ختم کرنے کا اختیار صرف ان شدید اور لاعلاج مریضوں کو ہوگا جو آزادانہ فیصلے کرنے اور اپنے طور پر سوچنے سمجھنے پر قادر ہوں۔

جرمنی میں خودکشی کو ذاتی حق تسلیم کرتے ہوئے اس کی مشروط اجازت

ابھی تک جرمنی میں قانونی طور پر اس طرح خودکُشی کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن اب اس فیصلے سے حکومت کو پابند بنایا گیا ہے کہ وہ ایسے مریضوں کے لیے باوقار اور بے درد خود کُشی کو ممکن بنائے۔ اس فیصلے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک جرمن شہری اس حوالے سے ایک طویل عرصے سے قانونی جنگ جاری رکھے ہوئے تھا۔ مدعی کی اہلیہ 2002 میں ایک حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد گردن سے نیچے اس کا تمام جسم مفلوج ہو گیا تھا۔ اس متاثرہ مریضہ کو مصنوعی سانس سے زندہ رکھا جا رہا تھا اور اسے مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت تھی۔

متاثرہ خاتون کا 2004 میں کہنا تھا کہ اس طرح زندگی گزارنا اس کے لیے ناقابل برداشت اور ذلت آمیز ہے اور اُسی برس نومبر میں اس مریضہ نے جرمنی کے وفاقی ادارہ برائے ادویات اور طبی آلات کی انتظامیہ کو زندگی ختم کرنے والی دوا فراہم کرنے کی درخواست جمع کروا دی تھی۔ وفاقی ادارے نے یہ درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ ’ادویات کے مقاصد کے قانون کے تحت‘ اس کا فراہم کیا جانا ایک غیرقانونی عمل ہے۔

اس کے بعد مدعی اور متاثرہ خاتون یورپی ملک سوئٹزرلینڈ چلے گئے تھے جہاں 2005 میں ایک امدادی تنظیم کی مدد سے مفلوج جرمن خاتون نے زندگی ختم کرنے والی دوائی حاصل کر لی تھی۔لیکن متاثرہ کے خاوند نے جرمنی میں قانونی لڑائی جاری رکھی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز