مذہب کے نام پر سیاست سے شدت پسندی کو تقویت: ویانا آسٹریا(یوروپ) میں کانفرنس سے ارشد مدنی کا خطاب

Feb 09, 2017 08:45 PM IST | Updated on: Feb 09, 2017 08:45 PM IST

نئی دہلی ۔  دنیاکا ہر مذہب پیار، محبت اور امن کا پیغام دیتا ہے ، جو مذہب نفرت یا تفریق پیدا کرتا ہو وہ یا تومذہب نہیں ہے یا پھر اسے ٹھیک سے سمجھا نہیں گیا ۔ان خیالات کا اظہار آسٹریا کی راجدھانی ویانا میں کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز بین ا لا قوامی مرکزبرائے مکالمہ بین المذاہب و الثقافات کے زیر اہتمام منعقد دوروزہ بین المذاہب کانفرنس کے دوران مقررین نے کیا۔ اس کانفرنس میں بر صغیر انڈو پاک سے واحد مسلم مذہبی رہنما جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے شرکت کی جبکہ ان کے علاوہ دنیا بھر سے تقریباً تمام مذاہب (مسلم، ہندو، عیسائی،سکھ ، یہودی ، بودھ، پارسی مذہب) کے علما ء و پیشوائوں نے شرکت کی ۔ کانفرنس میں ہندوستان کے نمائندے کے طور پر خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مذہب تفریق، لڑائی یا نفرتیں پیدا کرنے کا نہیں بلکہ محبت، اخوت اور امن و امان کا پیغام دیتا ہے۔جنگ و جدل اور لڑائی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ قابل مذمت عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ معاشرے میں تفریق اور دوریاں پیدا کر کے اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں اور مذہب کا فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد بھی حاصل کر لیتے ہیں ۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام لئے بغیر کہا کہ یہ صورتحال اس وقت اور خراب ہوجاتی ہے جب مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے یا اپنے کے مقاصد حصول کے لئے اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں ۔ مذہب کے نام پر سیاست سے شدت پسندوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے ۔

مولانا مدنی نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکہ میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ کافی جمہوریت پسند اور غیر جانبدار ہیں ، اس لئے وہ خود ٹرمپ کے نظریہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، لیکن افسوس اور تشویش کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس تصور کے بعد ا س طرح کے لوگوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے جوکناڈامیں مسجد پر حملہ کا سبب بنی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ دنیا کے موجودہ حالات میں یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہی وقت ہے کہ مذہبی رہنما مذہب کے امن و امان اور پیار و محبت کے پیغام کو لے کر آگے بڑھیں تاکہ حالات پرقابو پایا جا سکے۔ مولانا مدنی نے اس کانفرنس کے انعقاد کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر یہ کام ایسی تنظیم ہی کر سکتی تھی۔

مذہب کے نام پر سیاست سے شدت پسندی کو تقویت: ویانا آسٹریا(یوروپ) میں کانفرنس سے ارشد مدنی کا خطاب

فائل فوٹو

کانفرنس میں عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کے ساتھ مختلف تجاویز پاس ہوئیں، جن میں ایک اہم تجویز شورش زدہ علاقوں کی بازآباد کاری خاص طور سے میانمار اور شام میں بازآبادکاری کی تجویز پاس ہوئی اور اس کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی جس میں مولانا سید ارشد مدنی بھی ہیں۔

viana1

کانفرنس کے آخری دن عشائیہ کے پروگرام میں رابطہ عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم العیسی نے بھی شرکت کی اور اس موقع پر اپنا پیغام بھی دیا ۔ انہوں نے کہا کہ نفرت اور دوریوں کوختم کرنے کے لئے اخوت اور محبت کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب تفریق یا نفرت کا درس نہیں دیتا ہے ،اگر کسی مذہب کے نام پرتفریق اور دوری پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مذہب نہیں ہے یا پھر اسے سمجھا نہیں گیا۔ ڈاکٹرمحمد بن عبدالکریم العیسی نے کہا کہ محبت، اخوت اور امن کا پیغام دینے والے مذاہب میں اسلام سب سے آگے ہے ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز