بلاگر لڑکی بانا العابد نے لکھا ٹرمپ کو کھلا خط، شام کے بچوں کو بچانے کے لئے کی جذباتی اپیل

Jan 25, 2017 07:17 PM IST | Updated on: Jan 25, 2017 07:17 PM IST

نئی دہلی۔ شام کے حلب شہر میں جنگ کی المناک صورت حال کو بیان کرنے والے اپنے ٹویٹس سے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے والی سات سالہ شامی لڑکی بانا العابد نے امریکہ کے نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ بی بی سی نے کل اپنی ایک خبر میں کہا کہ دہشت گردوں کے قبضے والے شہر کو چھوڑ کر دسمبر میں ترکی جانے والی بانا نے اپنے خط میں ٹرمپ سے شام کے بچوں کی مدد کرنے کی جذباتی اپیل کی۔ بانا کی ماں نے اس خط کی ایک کاپی بی بی سی کو بھیجی جس میں بانا نے کہا، 'میں شامی جنگ سے متاثرہ شامی بچوں میں سے ایک ہوں۔' اس نے ٹرمپ کو بتایا کہ بمباری میں حلب میں اس کا اسکول تباہ ہو گیا اور اس کے کچھ دوست ہلاک ہو گئے۔

بانا نے لکھا، 'ترکی میں میں باہر جا سکتی ہوں اور مزے کر سکتی ہوں۔ میں اسکول جا سکتی ہوں اگرچہ اب تک میں نہیں گئی۔ اس لیے آپ کے ساتھ ساتھ ہر کسی کے لئے امن ضروری ہے۔ 'اس نے لکھا ہے،' اگرچہ کروڑوں شامی بچے ابھی میری جیسی حالت میں نہیں ہیں اور شام کے مختلف حصوں میں مصیبت زدہ ہیں۔ 'اس نے لکھا،' آپ کو شام کے بچوں کے لئے کچھ کرنا چاہئے کیونکہ وہ آپ کے بچوں کی طرح ہیں اور آپ کی طرح امن چاہتے ہیں۔ 'شام میں صدر بشار الاسد اور اپوزیشن دھڑوں کے درمیان چھ سال سے جاری جنگ میں تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں جن میں کم از کم 15 ہزار بچے ہیں۔

بلاگر لڑکی بانا العابد نے لکھا ٹرمپ کو کھلا خط، شام کے بچوں کو بچانے کے لئے کی جذباتی اپیل

بانا اپنے ٹویٹس سے شامی سانحہ کی علامت بن گئی ہے تاہم حکومت نے اس کی اور اس کی ماں کی باقاعدہ طور پر کئے جانے والے ٹویٹس کی تنقید کرتے ہوئے اسے پروپیگنڈا بتایا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز