شامی امن مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم

Jul 15, 2017 08:18 PM IST | Updated on: Jul 15, 2017 08:18 PM IST

جنیوا۔  شام کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب اسٹیفن ڈی مستورا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی  لڑائی پر زور دیتے ہوئے جینوا میں منعقدہ شامی امن مذاکرات کے اختتام پر کہا کہ مذاکرات میں کوئی کامیاب پیش رفت نہیں ہوسکی، تاہم، کسی نے مذاکرات سے واک آؤٹ نہیں کیا۔ امن مذاکرات کے سلسلے میں سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کے بعد کل ایک پریس کانفرنس میں مسٹر ڈی مستورا نے دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی لڑائی پر زور دیا۔

شامی امن مذاکرات کے آغاز سے ہی شامی حکومت دہشت گردی اور اس کے انسداد پر بحث کا مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہے، جس نے اس سال اس کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرکے نئے آئین کی تشکیل ، نئے انتخابات اور انتظامی اصلاحات پر بات چیت کے لئے رضامندی ظاہر کی ہے ۔ جبکہ اپوزیشن گروپ اقتدار کی منتقلی پر بات چیت کا مطالبہ کررہے ہيں، جس کا مطلب ہے کہ نئے آئن، نئی انتظامیہ اور انتخابات پر کوئي بھی بات اقتدار سے بشار الاسد کی معزولی کے بعد ہی ممکن ہے۔ مسٹر ڈی مستورا نے کہا کہ بشار الاسد کے نمائندوں نے مذاکرات میں اقتدار کی منتقلی پر بحث کے لئے رضامندی کا کوئی اشارہ نہيں دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن کے تینوں گروپوں کے لیڈروں نے آپسی اختلافات سے ہٹ کراعتماد بنانے کے لئے رواں ماہ کے آخر میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

شامی امن مذاکرات کسی پیش رفت کے بغیر ختم

شامی صدر بشار الاسد: فائل فوٹو، رائٹرز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز