طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں 12 افغان پولیس اہلکاروں کا قتل

Feb 28, 2017 08:55 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 08:55 PM IST

لشکر گاہ۔ جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک چیک پوسٹ پر آج صبح طالبان جنگجوؤں نے ہتھیار اور دستی بم سے حملہ کرکے 12 پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا اور ہتھیار اور گولہ بارود لوٹ لئے۔ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے۔ ایک صوبائی اہلکار نے کہا کہ یہ اندرونی حملہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک سکیورٹی گارڈ اب بھی لاپتہ ہے۔ افسر نے کہا کہ"اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ آیا کوئی اندرونی شخص نے طالبان کے ساتھ مل کر اس جرم کو انجام دیا"۔ صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں ہونے والے اس حملے نے افیون پیداوار کرنے والے صوبے میں افغان سکیورٹی فورس کو درپیش خطرات کا خاکہ بھی پیش کردیا ہے۔ کئی اضلاع کو کنٹرول کر نے کے بعد ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجوؤں کے ساتھ سخت لڑائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

ہلمند کے ڈپٹی پولس چیف حاجی گلاي نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "طالبان جنگجوؤں نے ایک چیک پوائنٹ پر بندوق سے حملہ کیا اور اس کے بعد چوکی میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد ہینڈ گرینیڈ سے دیگر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور ان کا قتل کرنے کے بعد ہتھیار اور گولہ بارود لے کر بھاگ گئے"۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ایک دوسرے واقعہ میں ہلمند کے ضلع مارجہ میں 12 پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا گيا۔ طالبان کے جنگجوؤں نے لشکر گاہ سمیت ہلمند کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ سال 2001 میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے صوبے میں جاری جنگ میں برطانوی اور امریکی فوج کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئي ہيں۔

طالبان جنگجوؤں کے ہاتھوں 12 افغان پولیس اہلکاروں کا قتل

فائل فوٹو

امریکی تخمینہ کے مطابق افغان سکیورٹی فورس کا ملک کے 60 فیصد حصوں پر قبضہ رہ گیا ہے جبکہ طالبان کا کنٹرول 10 فیصد ہے ۔ باقی علاقوں پر کنٹرول کے لئے حکومت اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جھڑپيں جاری ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز