لو سیکس اور دھوکہ : ان کے بیڈ روم سے ہو رہے تھے کنڈوم غائب ، سچ سامنے آیا تو ... ۔

ضروری نہییں کہ فون پر کسی سے بات کرنے یا ملنے پر ہی کسی کو اپنے ساتھی پر شک ہو ۔کبھی کبھی چھوتا۔موٹا اشارہ بھی کافی ہوتا ہے۔

Jun 29, 2018 11:10 AM IST | Updated on: Jun 29, 2018 11:40 AM IST

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جاسوس ہونا کیسا ہوگا ؟ ایک جاسوس کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔ اس کے پاس زندگی کی کیسی کہانیاں ہوتی ہیں ، ارچنا پیشے سے ڈیٹکٹیو یعنی جاسوس ہیں ، جن کے  مقدموں کی ایک سیریز "لو سیکس اور دھوکہ" ہم نے شروع کی ہے ۔

ضروری نہییں کہ فون پر کسی سے بات کرنے یا ملنے پر ہی کسی کو اپنے ساتھی پر شک ہو ۔ کبھی کبھی چھوٹا موٹا اشارہ بھی کافی ہوتا ہے ۔ راگھویندر میرے کافی اچھے دوست تھے۔ان کا فون آیا تولگا کسی بزنس کے سلسلے میں آیا ہوگا ، مگر  یہ کال ان کی بیوی کے سلسے میں تھی۔ راگھویندر چاہتے تھے کہ ان کی اہلیہ شیتل کی انویسٹیگیشن کی جائے۔  جب ان سے شک کی وجہ پوچھی گئی تو وہ خاموش ہو گئے۔ بعد میں میسیج کر کے مجھے بتایا ۔

لو سیکس اور دھوکہ : ان کے بیڈ روم سے ہو رہے تھے کنڈوم غائب ، سچ سامنے آیا تو ... ۔

علامتی تصویر

کافی عجیب ہے یہ  لیکن کئی ماہ سے 'میں اس بات کو نوٹس کر رہاہوں کہ میں کنڈوم لیکر آتا ہوں اور ٹور سے آنے کے بعد یا تو وہ کم ہوتے ہیں یا ہوتے ہی نہیں ۔ میں پوچھتا یو تو شیتل کہتی ہے کہ "کھا تھوڑے جاتی ہوں یا صفائی میں پھینک دئے" میں ٹور سے سے گھر آتاہوں تو بھی سیکس کیلئے ایکسائیٹڈ نہیں ہوتی زیادہ تر ٹال دیتی ہے"۔

بات کسی کو بھی سننے میں واقعی عجیب لگے گی ۔ ہو سکتا ہے آپ کو ہنسی بھی آئے لیکن یہ بہت بڑا اشارہ ہے۔ شیتل کے پاس  انویسٹیگیشن کیلئے گھر کے علاوہ دوسرا ٹھکانا نہیں تھا ۔کام شروع کیا گیا اس دوران راگھویندر ٹور پر تھے۔

شیتل بطور اکاؤنٹس ٹیچر بچوں کو گھر پر ٹیوشن دیتی تھی ۔ شیتل کا کئی مرتبہ پیچھا گیا ۔بازار جاتے ہوئے ، اپنی دوست سے ملتے ہوئے ، یہاں تک کہ مائیکے جاتے ہوئے بھی ۔پورے بیس دن تک انسویسٹیگیشن کرنے کے بعد بھی کچھ نہیں ملا ۔

TENTION

جب کیس صاف نظر آتا ہے تو اس کی پڑتال کرنی پڑتی ہے۔ شیتل کے کیس میں بھی یہی ہوا۔کچھ گھنٹوں کی انویسٹیگیشن پورے دن میں بدل گئی ۔ کسی کے گھر کے سامنے ڈیرا ڈالنا اور نظر میں نہ آنا، دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ ہمیں اپنا حلیہ بدلنا پڑا۔ کبھی سبزی والا ٹھیلا لیکر کبھی بھکاری بن کر وغیرہ وغیرہ۔۔

لوگ سبزی لینے آنے لگے اور تین دن مسلسل اس طر ح کرنے سے لوگ پہچاننے بھی لگے اور پھر چوتھے دن شیتل بھی مجھ سے سبزی لینے کیلئے وہاں آئی ۔ اس درمیان اس کے گلے پر کچھ نشان نظر آئے ۔ وہ شائد لو بائٹ تھے۔ اسی درمیان ایک اسٹوڈینٹ شیتل کے گھر آیا اور بغیر کچھ کہے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ شیتل نے چنی ہوئی سبزیاں ٹوکری میں ہی واپس رکھ دیں فورا اندر چلی گئی ۔ اس کے بعد بھی کئی مرتبہ شیتل کے گھر وقت بے وقت اس اسٹوڈینٹ کو آتے ہوئے دیکھا جا چکا تھا۔

باہر سے انویسٹیگیشن کی تمام تر کوششیں کر لی گئی تھیں ۔ اب  اندر کی بات پتہ کرنے کی باری تھی ۔ ٹیوشن کے علاوہ کے  شیتل کے کیس میں ایسا کچھ نہیں تھا جسے ٹٹولا جا سکے ۔ اس کیلئے ایک سورس کا بندوبست کیا ۔ ارجن وہ فائنل ایئر کا اسٹودینٹ بن کر شیتل سے ٹیوشن لینے کیلئے گیا۔

 (Pixabay)  : علامتی تصویر

شروع کے دنوں میں وہ ٹھیک سے ٹیوشن پڑھاتی اوروقت پر چھوڑ دیتی،پر ایک لڑکا ٹیوشن کے بعد بھی بیٹھا رہتا ،یہ کہہ کر کہ اسے کچھ سوال پوچھنے ہیں۔وہ لرکا ٹیوشن ختم ہونے کے دو تین گھنٹے بعد جاتا تھا۔کچھ دن بعد پتہ لگا کہ اس لڑکے کو دیکھ کر کلاس کے درمیان میں ہی وہ من ہی من مسکرا بھی دیتی ہے۔

اس دھندلی تصویر کو صاف کرنے کیلئے گھر پر ایک ٹیم ممبر کو کوریئر بوائے بناکر بھیجا گیا۔س وقت وہ لڑکا اندر تھا ۔شیتل دوڑتی ہوئی باہر آئی اس کی سانسیں چڑھی ہوئی ،بال بکھرے ہوئے تھے اور گاؤن کے اوپر کا بٹن کھلا تھا۔کوریئر بوائے نے غلط پتہ پر آنے کا بہانا کیا وہ بھڑک گئی اور اندر چلی گئی ۔کچھ ہی دن بعد کوئی اور لڑکا دیر تک رکنے لگا۔

ارجن نے اپنے بیچ میں کئی لڑکوں سے دوستی کر لی تھی۔ایک دن ارجن نے سبھی کو درنک پارٹہ پر بلایا ۔گروپ میں میڈم کا نام کئی لڑکوں کے ساتھ جوڑا گیا۔انہوں نے بتایا کہ میڈم کو خوش کرنے پر وہ فیس کنسیشن دے دیتی ہیں اور یہ بھی کہتی ہیں کہ جیک ؛لگوا کر نمبر بڑھوادیں گی۔

اب وقت کہ شک کو یقین میں بدلا جائے ۔ارجنکو کہا گیا کہ وہ شیتل کو اشارہ دے ۔لگاتار ایک ہفتے تک ایسا کرنے کے بعد ایک دن شیتل نے اسے رکنے کو کہا ۔وہ اندر گئی اور کچھ ہی دیر میں شیتل سوٹ بدل کر گاؤن میں باہر آئی یہ وہ گاأن نہیں تھا جس میں آنٹیاں اکثر دکھائی دیتی ہیں پیلے ونگ کا جارجٹ کا گاؤن ،ڈیپ نیک اور پتلی جیکٹ والا ۔اس کے بعد کے لفظوں نے ارجن کو ہکا بکا کر دیا۔

کئی دن سے دیکھ رہی ہوں لڑکے !ارادہ کیا ہے؟

فیس کا پرابلم ہے تھوڑا،ارجن نے کہا

بس اور نمبر کا بھی۔۔۔

جی ۔۔۔ارجن نے سر ہلا دیا۔

شیتل: "ٹھیک ہے ایک شرط ہے اس کیلئے تمہیں میرا ٹوائے بوائے بننا پڑے گا۔ٹوائے بوائے سمجھتے ہو نہ"۔

ہممممم۔۔۔ارجن نے رجامندی ظاہر کی۔

شیتل: "تو ٹھی ہے پر یاد رہے کہ کسی کے سامنے منھ مت کھولنا ،ورنہ میں تمہاری بات سب کو بتا دوں گی"۔

ایسا کہہ کر میں کل آ جاؤں گا ۔اس نے کل کا بہانہ بنایا

۔"ارے ! امتحان میں نمبر سے زیادہ ضروری اور کیا ہے؟ ادھر آؤ'۔۔۔۔۔

ارجن نے بہانے بنائے ،جس میں سے ایک یہ بھی کہ میرے پاس پروٹیکشن نہیں ہے۔

۔: "میرے پاس ہے نہ ۔۔۔بہت سارے  شیتل نے جھٹ سے کہا اور کچھ نہیں تو راگھویندر کے کنڈومس کہا جاتے تھے اس کا پتہ تو لگ ہی گیا تھا ۔وہ جیسے ہی اپنے روم میں کنڈوم لینے گئی ،ارجن وہاں سے بھاگ گیا۔

ری کمنڈیڈ اسٹوریز