امریکی نائب صدر کا مقبوضہ فلسطین میں خیر مقدم نہیں ، فلسطینی عہدیدار کا بیان ، امریکہ نے دی یہ دھمکی

Dec 08, 2017 12:46 PM IST | Updated on: Dec 08, 2017 12:56 PM IST

غزہ : فلسطینی جماعت فتح کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے کے بعد امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کا اب فلسطین میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔ فلسطین کے اس بیان پر امریکہ چراغ پا ہوگیا ہے اور اس نے فلسطین کو ملاقات منسوخ کرنے پر سخت نتائج کی دھمکی دے دی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے فلسطین حکام کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر امریکی صدر مائیک پینس کی فلسطینی صدر محمود عباس سے رواں ماہ ہونے والی ملاقات منسوخ کی گئی تو فلسطین کو برے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے منفی مضمرات ہوسکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق نائب صدر پینس اپنے دورے میں فلسطینی رہنما سے ملاقات کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں اور اس ملاقات کا نہ ہونا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ نائب صدر پینس اس دورے میں اسرائیل اور مصر بھی جائیں گے۔

امریکی نائب صدر کا مقبوضہ فلسطین میں خیر مقدم نہیں ، فلسطینی عہدیدار کا بیان ، امریکہ نے دی یہ دھمکی

فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے ایک سینئر لیڈر جبریل رجوب کے حوالے سے نیوز ایجنسی 'اے ایف پی نے خبر دی ہے کہ امریکی نائب صدر کا اسی ماہ خطے کے دورے کے موقع پر فلسطین میں استقبال نہیں کیا جارہا ہے۔انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ صدرمحمود عباس ان سے مقبوضہ بیت المقدس کے بارے میں ان کے حالیہ بیانات کی بنا پر ملاقات نہیں کریں گے۔تاہم فی الحال خود صدر محمود عباس یا ان کے ترجمان نے اس ضمن میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ محمود عباس نے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی اعلان کرنے کے امریکی صدر کے فیصلہ کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس سے امریکہ نے خود کو مشرق وسطیٰ میں مصالحت کار ہونے کے اپنے روایتی کردار سے نااہل کروا لیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز