امریکہ کے ورجینیا میں مسلم طالبہ کی موت نسلی تشدد نہیں بلکہ روڈ ریج کا نتیجہ: پولیس

Jun 20, 2017 11:59 AM IST | Updated on: Jun 20, 2017 11:59 AM IST

ورجینیا۔ امریکہ کے ورجینیا میں اتوار کی صبح ایک مسجد کے قریب جس مسلم طالبہ کی موت ہوئی تھی وہ روڈ ریج کا نتیجہ تھی اور اس میں نسلی تشدد کا کوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔ پولیس نے آج جاری بیان میں یہ اطلاع دی ۔ اس طالبہ پر اتوار کی صبح واشنگٹن سے 50 کلومیٹر ورجینیا کے اسٹرلنگ میں ایک مسجد کے قریب حملہ ہوا تھا جب یہ تراویح کی نماز پڑھ کر لوٹ رہی تھی۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس کی موت کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی ہے لیکن یہ ضرور کہا کہ اس معاملے میں ایک نوجوان ڈارول مارٹنیج ٹورس (22) کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع نے کل بتایا کہ مارٹنیج اس وقت ان کی گاڑی میں تھا جب یہ مسلم طالبہ اپنے دوستوں کے ساتھ نماز ادا کرنے کے بعد میک ڈونالڈ ریسٹورنٹ سے باہر آ رہی تھی اور ان کا جھگڑا مارٹنیج سے ہوا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ حادثہ روڈ ریج کا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے اور اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں نسلی تشدد کا کوئی بھی پہلو ابھر کر سامنے نہیں آیا ہے۔ پولیس افسران نے اس لڑکی کا نام نہیں بتایا ہے لیکن اتنا ضروربتایا ہے کہ وہ ورجینیا کی رہنے والی تھی۔

امریکہ کے ورجینیا میں مسلم طالبہ کی موت نسلی تشدد نہیں بلکہ روڈ ریج کا نتیجہ: پولیس

نابرہ حسنین اور ڈارول مارٹنیج ٹورس: تصویر، نیویارک پوسٹ ڈاٹ کام

اس دوران اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس نوجوان طالبہ کا نام نابرہ حسنین بتایا ہے اور وہ اس وقت مسلمانوں جیسے کپڑوں میں ملبوس تھی جس سے یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ شاید اسی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا ہوگا۔ پولیس نے اس حادثے کے دو گھنٹے بعد ہی مارٹنیج کو مشکوک حالت میں گھومتے ہوئے گرفتار کر لیا اور مقتولہ کی لاش ایک تالاب سے برآمد کی گئی ہے۔ عدالت نے مارٹنیج كو ضمانت نہیں ملنے تک جیل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اسے کل ایک سرکاری وکیل بھی مہیا کیا گیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز