برطانیہ کی ٹریسا مئے کی حکومت کو پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا

لندن۔ وزیر اعظم ٹریسا مئے کی حکومت کو بریگزٹ معاملہ پر پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارلیمنٹ میں کل ہوئی ووٹنگ میں ہو نے والی شکست محترمہ مئےکے لئے زورردار جھٹکے کی طرح ہے۔

Dec 14, 2017 03:43 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 03:43 PM IST

لندن۔  وزیر اعظم ٹریسا مئے کی حکومت کو بریگزٹ معاملہ پر پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پارلیمنٹ میں کل ہوئی ووٹنگ میں ہو نے والی شکست محترمہ مئےکے لئے زورردار جھٹکے کی طرح ہے۔ وہ پہلے سے ہی گزشتہ جون کے انتخابات میں اپنی کنزرویٹو پارٹی کی اکثریت کھونے کے بعد سے کمزور ہو چکی ہیں۔ جب زیادہ تر پارلیمنٹ حکومت پر بریگزٹ بلیو پرنٹس میں تبدیلی کے لئے دباؤ ڈال رہے تھے تو وزیر دلیل دے رہے تھے کہ اس سے یوروپی یونین سے برطانیہ کے الگ ہونے پر خطرہ ہو سکتا ہے۔

چھ سو پچاس رکنی پارلیمنٹ میں 305 ممبران پارلیمنٹ نے یوروپی یونین سے آخری راستہ یعنی معاہدہ کے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 309 اس کی مخالفت میں رہے۔ مئے حکومت کی ٹیم اپنی پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کو مانگ چھوڑ دینے کے لئے سمجھاتی رہی اور مشکل بھری بریگزٹ بات چیت میں اپنا پارٹی کے کمزور ہونے کا خدشہ کو لے کر انہیں حکومت کا ساتھ دینے کی کوشش کرتے رہے۔ایک سرکاری ترجمان نے کل پارلیمنٹ میں ہوئی ووٹنگ کو "مایوس کن" قرار دیا۔

برطانیہ کی ٹریسا مئے کی حکومت کو پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا

برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مئے: فائل فوٹو۔

یوروپی یونین سے واپسی سے متعلق بل پر گزشتہ ایک ہفتے سے پارلیمنٹ میں اکثر تلخ بحث ہوتی رہی۔ بریگزٹ کے معاملے پر صرف پارلیمنٹ ہی نہیں بلکہ حکمراں کنزرویٹو کے ساتھ ساتھ اہم اپوزیشن لیبر پارٹی اور پورے ملک میں گہری تقسیم نظر آتی ہے۔ اس نے محترمہ مئے کی کمزوری کو بھی اجاگر کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز