برطانیہ میں دہشت گردانہ حملہ کا خطرہ برقرار: تھیریسا مے

May 24, 2017 02:35 PM IST | Updated on: May 24, 2017 02:35 PM IST

لندن۔ برطانیہ میں شمالی شہر مانچیسٹر میں امریکی گلوکارہ ایریانا گرینڈے کے ایک پروگرام کے بعد ہوئے خودکش بم دھماکہ کے بعد برطانیہ میں دہشت گردانہ حملہ کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے اس لئے برطانیہ کے اہم علاقوں میں اضافی فوجیوں کو تعینات کیا جائے گا۔ مانچیسٹر ارینا میں ہوئے حملہ کے سلسلے میں برطانیہ کی وزیر اعظم تھیریسا مے نے کہا ہے کہ عام لوگوں کو ایک قائرانہ دہشت گرد حملہ کا شکار بنایا گیا ہے۔ مانچیسٹر کے چیف کانسٹبل ایان ہاپکنس نے بتایا کہ مانچیسٹر ایرینا میں ہوئے اس خودکش بم دھماکہ میں کچھ بچوں سمیت 22 افراد ہلاک اور 59 دیگر زخمی ہوگئے۔ برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریزا مے نے خبردار کیا ہے کہ مانچیسٹر حملے کے بعد برطانیہ میں کسی بھی وقت اگلا حملہ ہو سکتا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے خطرے کی سطح کو بڑھا دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے کیوں کہ تحقیقاتی ادارے اب تک اس بات کو یقینی نہیں بنا سکے کہ آیا سلمان عبیدی حملے میں اکیلا ملوث تھا یا اس کو کسی کی مدد حاصل تھی۔ تھیریسا مے کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ مانچیسٹر حملے میں ایک شخص نہیں بلکہ ’کوئی گروہ‘ ملوث ہو۔ مانچیسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا ذمہ دار 22 سالی لیبیائی نژاد شخص سلمان عبیدی تھا۔ سلمان عبیدی 31 دسمبر 1994 میں مانچیسٹر میں پیدا ہوا۔اطلاعات کے مطابق اس کے تین بہن بھائی ہیں: ایک بڑا بھائی جو لندن میں پیدا ہوا اور اور سلمان عبیدی سے چھوٹی ایک بہن اور بھائی جو مانچیسٹر میں پیدا ہوئے۔

برطانیہ میں دہشت گردانہ حملہ کا خطرہ برقرار: تھیریسا مے

مانچیستڑ ایرینا سے تھوڑی دور پر ایمبولینس: رائٹرز

واضح رہے کہ اس خودکش حملہ کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے لی ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے اس پروگرام میں دھماکہ خیز آلات نصب کئے تھے جس میں دھماکہ ہوا۔ بیان میں کہا گیا، مانچیسٹر شہر میں ہجوم کے درمیان اس کے ایک جنگجو نے یہ دھماکہ خیز آلہ لگایا تھا۔

برطانیہ میں حملے کے خطرے کو مد نظر رکھتے ہوئے منگل کی شام کابینہ کی ’کوبرا‘ کمیٹی کے اجلاس کے بعد ملک میں حملے کے خطرے کی سطح کو بڑھا کر ’کریٹیکل‘ کر دیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ اگلا حملہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

سنہ 2014 سے برطانیہ میں حملے کے خطرے کی سطح اس سے ایک درجہ کم تھی جس کا مطلب تھا کہ ’حملے کے امکانات بہت زیادہ ہیں‘۔ خطرے کی سطح کو انتہائی درجے تک اس سے پہلے صرف دو مرتبہ کیا گیا ہے۔ پہلی بار سنہ 2006 میں اس وقت کیا گیا تھا جب ٹرانس اٹلانٹک فلائٹس پر مائع بموں کی مدد سے حملہ کرنے کے منصوبے کو ناکام بنایا گیا تھا۔ اور اس سے اگلے سال اس وقت کیا گیا تھا جب لندن میں ایک نائٹ کلب کو بم سے اڑانے کی کوشش کرنے والے شخص کی تلاش کی جا رہی تھی جس نے بعد میں جا کر گلاسگو ایئرپورٹ پر حملہ کر دیا تھا۔

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت نے ’آپریشن ٹیمپیرر‘ کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے تحت عوام کے تحفظ کے لیے اہم عوامی مقامات پر مسلح پولیس کی مدد کے لیے فوج کو تعینات کیا جائے گا۔ محترمہ تھریسا مے کا کہنا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں پولیس کو مختلف جگہوں پر جیسا کے کنسرٹس وغیرہ میں بھی تعینات کیا جائے گا اور وہ پولیس آفسروں کے ماتحت کام کریں گے۔ پولیس نے مانچیسٹر کے جنوبی علاقے چورلٹن سے ایک 23 سالہ شخص کو حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے 22 افراد میں سے تین کی شناخت ظاہر کی گئی جس میں آٹھ سالہ سیفی روز روسو، 18 سالہ جیورجینا اور 28 سالہ جان ایٹکنس شامل ہیں۔ حکام کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں 12 بچوں کی عمریں 16 سال سے کم ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز