پارا چنار میں دھماکوں کے بعد پاکستان میں سلامتی کے لئے ہزاروں شہریوں کا مظاہرہ

Jun 29, 2017 11:55 PM IST | Updated on: Jun 29, 2017 11:55 PM IST

پاراچنار: پاکستان کے پاراچنار شہر میں ہزاروں لوگوں نے آج مظاہرہ کرکے بہتر تحفظ اور سلامتی کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا، جہاں گزشتہ ہفتہ ایک مارکیٹ میں ہونے والے دوہرے بم دھماکے میں 75 لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ یہ اطلاع حکام اور عینی شاہدین نے دی ہے۔ پاراچنار میں جمعہ کی شام کو ہونے والے دوہرے بم دھماکوں کے بعد سے ہی شہریوں نے دھرنا شروع کردیا تھا۔ مارکیٹ میں جب دھماکے ہوئے اس وقت کثیر تعداد میں لوگ رمضان کے آخری ایام ہونے کی وجہ سے خریداریوں میں مصروف تھے۔ ان بم دھماکوں کی ذمہ داری ایک پاکستانی جنگجو گروپ لشکر جھنگوی نے لی ہے۔

آج کے مظاہرے میں شامل لوگوں کی بھیڑ جو شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے میں حکام کی ناکامی پر پہلے سے غصے میں تھی، پولس کی فائرنگ میں تین مظاہرین کی ہلاکت پر مزید مشتعل ہوگئی۔ حکام نے فی الحال تین مظاہرین کے مرنے کی تصدیق نہیں کی ہے، بلکہ صرف یہ کہا ہے کہ واقعہ کی تفتیش کی جارہی ہے۔ سابق صوبائی حکومت کے وزیر ارشد عمر زئی کا کہناتھا کہ " ہم اپنے ہلاک شہریوں کی لاشیں اٹھاتے اٹھاتے چکے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی مصیبت کی اس گھڑی میں وزیر اعظم اور فوجی سربراہ کو پاراچنار کا دورہ کرنا چاہئے۔

پارا چنار میں دھماکوں کے بعد پاکستان میں سلامتی کے لئے ہزاروں شہریوں کا مظاہرہ

وزیر اعظم نواز شریف نے بم دھماکہ میں ہلاک شدگان کے لواحقین کے لئے دس لاکھ روپے اور زخمیوں کے پانچ لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے، لیکن مظاہرین اس کو یہ کہہ کر مسترد کردیا ہے کہ دوسری جگہوں میں حملوں کے متاثرین کو اس سے زیادہ معاوضہ دیا گیا ہے۔ سلامتی دستوں نے آج کے مظاہرے کی رپورٹنگ کے لئے صحافیوں کو علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا ۔ سابق سنیٹر علامہ عابد الحسینی نے بتایا کہ پارا چنار کے دھرنے میں آج 70 ہزار مظاہرین شریک ہوئے، جس میں شہریوں کی بہتر سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گيا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز