بنگلہ دیش میں سزائے موت یافتہ تین مسلم انتہاپسندوں کو پھانسی دی گئی

Apr 13, 2017 02:41 PM IST | Updated on: Apr 13, 2017 02:41 PM IST

ڈھاکہ۔  بنگلہ دیش نے انتہاپسند اسلامی گروپ کے لیڈر سمیت تین افراد کو پھانسی دے دی، جنہيں 2004 میں برطانوی سفیر پر گرینیڈ حملے کے لئے سزائے موت سنائی گئي تھی۔ صدر جمہوریہ نے ان کی رحم کی درخواست حال ہی میں مسترد کردی تھی۔ یہ اطلاع جیل کے سینئر حکام نے دی ہے۔ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے تین جنگجوؤں کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا، جن میں حرکۃ الجہاد الاسلامی کے لیڈر مفتی عبدالحنان بھی شامل ہے۔

تینوں مجرموں کو 2008 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، جن کے خلاف ضلع سیلہٹ میں 21 مئي 2004 کو جمعہ کی نماز کے بعد ایک اجتماع پر گرینیڈ سے حملے کے کا الزام تھا۔ اس حملے میں اس وقت کے برطانوی سفیر انور چودھری اور 50 ديگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ سینٹرل جیل کے سپرنٹنڈنٹ میزان الرحمان نے رائٹر کو بتایا کہ مفتی عبدالحنان اور دوسرے مجرم شریف شاہد کو قاسم پور جیل میں پھانسی دی گئی، جبکہ تیسرے مجرم دلاور حسین کو سیلہٹ سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکایا گيا۔

بنگلہ دیش میں سزائے موت یافتہ تین مسلم انتہاپسندوں کو پھانسی دی گئی

رائٹرز

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز