ٹرمپ نے حکم عدولی کرنے پر ایگزیکٹو اٹارنی جنرل کو کیا برطرف

Jan 31, 2017 05:28 PM IST | Updated on: Jan 31, 2017 05:30 PM IST

واشنگٹن ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امیگریشن سے متعلق اپنے حکم نامہ کے نفاذ کے معاملے میں حکم عدولی کرنے پر آج ایگزیکٹو اٹارنی جنرل سیلی ایٹس کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ سیلی ایٹس نے محکمہ انصاف کے وکلاء کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ٹرمپ کے امیگریشن پابندیوں کو نافذ نہ کریں۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان سین اسپاسر نے سیلی ایٹس کو برطرف کرنے کی اطلاع دیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ سیلی ایٹس کی جگہ  ٹرمپ نے ڈانا بونٹے کو نیا ایگزیکٹو اٹارنی جنرل مقرر کیا ہے جو کہ ورجینیا کی اٹارنی جنرل ہیں۔ سابق صدر باراک اوباما کی طرف سے تقرری پانے والی سیلی ایٹس نے کہا کہ وہ اس بات سے مطمئن نہيں تھیں کہ سات مسلم اکثریتی ممالک کے مسافروں کےامریکہ آنے پر روک لگانا قانونا درست ہے۔

سیلی ایٹس نے اپنے محکمہ انصاف کے وکلا سے کہا تھا کہ وہ امیگریشن سے متعلق ٹرمپ کے حکم نامے پر نہ عمل کریں اور نہ ہی اس کی حمایت کریں۔

ٹرمپ نے حکم عدولی کرنے پر ایگزیکٹو اٹارنی جنرل کو کیا برطرف

رائٹرز

سیلی ایٹس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ امیگریشن سے متعلق صدر ٹرمپ کا حکم نامہ قانون کے مطابق درست ہے۔ انھوں نے لکھا کہ "جب تک میں قائم مقام اٹارنی جنرل ہوں اس وقت تک محکمہ انصاف ایگزیکٹو آرڈر کے دفاع میں کوئی بھی دلیل پیش نہیں کرے گا"۔ وہائٹ ہاؤس کے پریس سکریٹری کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ صدر نے سیلی ایٹس کو ان کے فرائض سے چھٹی دیدی ہے۔ وا ضح رہے کہ سیلی ایٹس نے امریکی میڈیا میں شائع ہونے والا یہ مراسلہ محکمہ انصاف کے اہلکاروں کو لکھا تھا۔ اس میں درج ہے کہ صدارتی حکم نامہ کوعدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز