ٹرمپ امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرکے اُسے اسرائیلی دارالحکومت بنانے سے بازرہیں: اقوام عالم

Jan 16, 2017 01:36 PM IST | Updated on: Jan 16, 2017 01:36 PM IST

پیرس۔ بڑی طاقتوں نے جہاں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین تنازعے کا دو مملکتی حل ہی واحد حل ہے وہیں فرانس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کیا تو امن مساعی کی گاڑی پٹری سے اتر جائے گی۔فرانس کے نزدیک یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ’’سنگین نتائج‘‘ برآمد ہوں گے۔ یروشلم کی حیثیت کے معاملے کو فلسطین اسرائیل تنازعے میں مشکل ترین فیصلہ سمجھا جاتا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک ایغو نے یہاں شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ امن کانفرنس کے موقع پر امریکی نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یروشلم کے حوالے سے کوئی بھی انفرادی فیصلہ نہ کریں۔

اس بیچ اسرائیل وزیر اعظم بنیا مین نیتن یا ہو نے پیرس مشرق وسطیٰ کانفرنس کو سعی رائیگاں قراردے کر مسترد کر دیا ہے۔ اس کانفرنس میں 70 ملکوں کے رہنمایان اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کے ذو مملکتی حل کی کوشش کو اور مربوط بنانے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

ٹرمپ امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرکے اُسے اسرائیلی دارالحکومت بنانے سے بازرہیں: اقوام عالم

مارک ایغو نے یہ بھی کہا ہے کہ بہر حال آنے والے امریکی صدر کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جو سوچ رہے ہیں اس پر عمل درآمد نا ممکن ہے۔ فرانسیسی ٹی وی چینل تھری سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’جب آپ امریکی صدر بنتے ہیں تو اس طرح کے مسئلے پر ضدی اور یک طرفہ فیصلے نہیں کر سکتے۔ آپ کو امن کے لیے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے یہ بھی کہا کہ عشروں پرانے اسے تنازعے کا حل صرف ذو مملکتی حل ہے اور اس حل پر عمل درآمد کے لیے بین الاقوامی برادری کو بھرپور کوششیں کرنی چاہیئیں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق ان کی امن کی خدمت کرنے کے سوا کوئی دوسری خواہش نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے اب بہت ہی کم وقت باقی بچا ہے۔ ان کا اشارہ یروشلم میں یہودی بستیوں کی طرف تھا کہ ان کی تعداد بڑھنے سے یروشلم کی حیثیت پر بھی فرق پڑتا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز