مشرق وسطیٰ میں امن کے رخ پر ٹرمپ، عباس اور بنیامین ٹھوس اقدام سے دور لیکن پرامید بدستور

May 23, 2017 11:34 PM IST | Updated on: May 23, 2017 11:34 PM IST

بیت اللحم (غرب اردن)۔  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے امکانات پر بات کی اور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ فریقین ایک تاریخی سمجھوتے کے پابند ہیں۔ بہر حال انہوں نےاس سمجھوتے تک پہنچنے کی کوئی ٹھوس تجویز پیش نہیں کی ۔

صدر فلسطین محمود عباس سے مقبوضہ غرب اردن کے بیت اللحم میں ایک گھنٹے کی بات چیت کے بعد مسٹر ٹرمپ نے مانچسٹر میں 22 لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے آتشیں دھماکہ کی مذمت کی اور اس دھماکے کہ سازش رچنے والوں کو مخرج شر قرار دیا۔ اس کے بعد انہوں نے مشرق وسطی میں امن کے رخ پر تقریر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین امن معاہدے کی کوشش کا پابند ہوں اور اس مقصد میں ان کی کامیابی کے لئے ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہوں ‘‘۔

مشرق وسطیٰ میں امن کے رخ پر ٹرمپ، عباس اور بنیامین ٹھوس اقدام سے دور لیکن پرامید بدستور

ٹرمپ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ، رائٹرز

انہوں نے کہا کہ ’’صدر عباس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ نیک جذبے کے ساتھ اس مقصد کے رخ پر کام کرنے کو تیا ر ہیں اوروزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے بھی ایسا ہی وعدہ کیا ہے اور میں ان دونوں رہنماوں کے ساتھ ایک دیر پا امن قائم کرنے کی کوشش کی تئیں پر امید ہوں ‘‘۔ ہر چند کہ نتن یاہو اور عباس دونوں نے مذاکرات کے تعلق سے اپنی رضامندی کی بابت مثبت اشارے دیئے ہیں لیکن دونوں کو کسی بھی سمجھوتہ تک پہنچنے کی آزادی کے محاذ پر اپنے اپنے حلقوں میں داخلی تناو اور کشیدگی کا سامنا ہے۔ نتن یاہو کی مخلوط حکومت میں دائیں بازو کے جو عناصر ہیں وہ دہائیوں پرانے اس جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے ذو مملکتی حل کے خلاف ہیں ۔ مسٹر یاہو کو ان عناصر سے نمٹنا ہوگا ۔ دوسری طرف عباس کی فتح پارٹی اور اسلام پسند حماس کی سوچ ایک دوسرے سے مطلق مختلف ہے۔ حماس غزہ میں اقتدار میں ہے جس کی وجہ سے امن کے رخ پر فلسطینی کوئی متحدہ موقف اختیار کرنے کے متحمل نہیں ۔

مسٹر ٹرمپ کے شانہ بہ شانہ کھڑے 82 سالہ عباس نے اگرچہ کہا کہ وہ تمام فلسطنیوں کے لئے ایک معاہدے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں لیکن وہ ٹھوس طریقے سے کچھ نہیں بتا پائے کہ یہ مقصد کیسے حاصل ہوگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز