مذاکرات سے قبل ٹرمپ نے شمالی کوریا کے معاملے میں چین پر دباؤ بنایا

Apr 03, 2017 03:06 PM IST | Updated on: Apr 03, 2017 03:06 PM IST

واشنگٹن۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین مذاکرات سے قبل کہا کہ چین ہمیشہ شمالی کوریا کا ساتھی رہا ہے اور انہیں اس کا (چین کا) ساتھ ملے یا نہ ملے وہ شمالی کوریا کے جوہری خطرے کے مسئلے کو اکیلا حل کرکے رہیں گے ۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ خود شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں سے نپٹ سکتا ہے۔ برطانیہ کے اخبار فائنشئل ٹائمز میں شائع ہوئے انٹرویو میں انہوں نے کہا، ’اگر چین شمالی کوریا کے مسئلے کا حل نہیں کرے گا تو اس کا حل ہم کریں گے۔‘انہوں نے فلوریڈا میں مار-اے-لاگو کے صحت افزا مقام جانے سے پہلے چینی صدر شی جن پنگ پر دباؤ بنانے کی تیاری کی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب 'ون آن ون' یکطرفہ ایکشن ہوگا تو مسٹر ٹرمپ نے کہا: 'کلی طور پر، اور اب مجھے مزید کچھ نہیں کہنا۔'

مسٹر ٹرمپ نے کہا، ’شمالی کوریا پر چین کا بہت اثر ہے اور چین کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ شمالی کوریا کے معاملے میں ہماری مدد کرے گا یا نہیں۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کے لیے یہ بہت اچھی بات ہوگی اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ کسی کے لئے اچھا نہیں ہو گا۔‘

مذاکرات سے قبل ٹرمپ نے شمالی کوریا کے معاملے میں چین پر دباؤ بنایا

حالانکہ انہوں نے تنہا کارروائی کرنے کے سوال پر صاف جواب نہیں دیا۔جمعرات کو ان کی چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات ہونے والی ہے تاہم اس سے پہلے مسٹر ٹرمپ کی جانب سے اس قسم کی تبصرہ سامنے آیا ہے۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا طویل فاصلے کے ایسے جوہری میزائل بنانے میں کامیاب ہو سکتا ہے جو امریکہ کے اندر تک حملہ کر سکتا ہو۔ دونوں ممالک کے صدور کی یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ ہے اور یہ 'مار اے لیگو' میں ہوگی۔

مارچ میں ایشا کے دورے میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے کہا تھا کہ دشمن کو ناکام کرنے کے لیے پیش بندی طور پر کی جانے والی 'فوجی کارروائی زیر غور ہے۔' ایک ماہ قبل امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی جوہری اسلحے کے استعمال کا 'بھرپور جواب' دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ چین شمالی کوریا کا واحد بین الاقوامی اتحادی ہے اور اس نے بھی تنہا پڑجانے والے اس ملک کی جانب سے تازہ ترین میزائل کے تجربے کے بعد ایکشن لیتے ہوئے فروری میں وہاں سے کوئلے کی درآمد بند کر دی جس سے پیونگ یانگ کو حاصل ہونے والی نقدی کے اہم ذریعہ پر ضرب پڑی ہے۔ یہ پابندی رواں سال کے اختتام تک کے لیے لگائی گئی ہے۔ تاہم یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صدر ٹرمپ چینی صدر سے ملاقات کے دوران شمالی کوریا کے خلاف مزید کارروائی کے لیے ان پر دباؤ ڈالیں گے۔ انھوں نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اس کے لیے تجارت کا میکانکی طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے ایف ٹی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'تجارت وہ محرک اور یہ سب تجارت ہی ہے۔' تاہم انھوں نے کہا کہ وہ ملاقات کے دوران محصول میں کمی کو زیر بحث نہیں لائیں گے۔ واضح رہے کہ مارچ کے اخیر میں انھوں نے امریکی تجارت کے خسارے کو کم کرنے، جاری قوانین اور بیرون سے ہونے والی تجارت کی خامیوں کا جائزہ لینے کے لیے دو ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔

ہرچند کہ وائٹ ہاؤس نے زور دے کر یہ بات کہی ہے کہ ان ایگزیکٹو آرڈرز کے مرکز میں چینی تجارت نہیں ہے تاہم امریکی تجارت میں خسارے کا سب سے بڑا ذریعہ چین ہی ہے جو  امریکہ کے مجموعی 502 ارب ڈالر سالانہ خسارے میں سے 374 ارب ڈالر کا موجب ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز