صحت کی دیکھ بھال بل پاس نہ ہونے سے مایوس ہوئے ٹرمپ

Mar 25, 2017 10:14 AM IST | Updated on: Mar 25, 2017 10:15 AM IST

واشنگٹن۔  امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج کہا کہ ایوان میں قدامت پسند گروپ نے صحت کی دیکھ بھال بل کے بل میں رخنہ ڈالا اور ہم نے اس کوشش سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اس حیرت انگیز سیاسی واقعہ کے بعد کل مسٹر ٹرمپ نے اوویل دفتر میں کہا کہ صحت خدمات بل کو نافذ کرنے کی کوشش اپوزیشن ڈیموکریٹ کا شکار ہو گیا اور مستقبل میں اس قانون کو نافذ کروانے کے لیے ڈیموکریٹ ارکان پارلیمنٹ کی حمایت کی ضرورت ہو گی۔ صحافیوں کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ ٹھگا محسوس کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ ایسا محسوس نہیں کر رہے ہیں۔ وہ لوگ میرے دوست ہیں۔ میں مایوس ہوں کیونکہ ہم اسے پاس کروانے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔اس لئے میں مایوس ہوں۔ اگر میں ایمانداری سے کہوں تو میں تھوڑا حیران بھی ہوں۔ اس مسئلے پر اسپیکر پال ریان نے صحافیوں کو بتایا ’ہم کافی قریب پہنچ گئے تھے لیکن ہم ضروری حمایت نہیں حاصل کرسکے۔ ہمیں مستقبل قریب میں اوباماكيئر کے ساتھ ہی رہنا ہوگا۔‘

وہیں مسٹر ٹرمپ نے ٹیکس اصلاحات کے معاملے پر کہا، ’ہم شاید اس مسئلے پر درست سمت میں جا رہے ہیں۔ ہم بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کمی اور اصلاحات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہماری اگلی کوشش ہوگی۔‘ قبل ازیں ایوانِ نمائندگان میں ذرائع نے بتایا تھا کہ ری پبلیکن پارٹی کے صحت کی دیکھ بھال کی قانون سازی کے حامیوں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایما پر مجوزہ بل پر رائے شماری کی تحریک واپس لے لی ہے۔ ایوان کے اسپکیر، پال رائن اور ٹرمپ گذشتہ چند روز کے دوران سخت تگ و دو کرتے رہے ہیں، تاکہ صحت کی دیکھ بھال کے بِل کی منظوری کے لیے درکار حمایت حاصل کی جا سکے۔

صحت کی دیکھ بھال بل پاس نہ ہونے سے مایوس ہوئے ٹرمپ

رائٹرز

دریں اثنا، ’رائٹرز/ اپسوس‘ کی جانب سے جمعے کو جاری کیے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتا چلتا ہے کہ ’رینڈم سروے‘ میں شامل تقریباً 1700 جوان امریکیوں کا کہنا ہے ری پبلیکنز کا بِل ’افرڈایبل کیئر ایکٹ‘ کا ’مناسب متبادل نہیں ہے، جسے اوباما کیئر بھی کہا جاتا ہے؛ جب کہ ری پبلیکن پارٹی کا اصلاحاتی بِل اُس کی جگہ لیتا۔ اس سے قبل، جمعے کو رائن نے صحت عامہ کے متبادل بِل سے متعلق صورت حال پر ٹرمپ کو بریفنگ دی، جس کے کچھ ہی گھنٹے بعد ایوانِ نمائندگان میں مجوزہ بِل پر ووٹنگ ہونی تھی۔ وائٹ ہاؤس ترجمان، شان اسپائسر نے اخباری نمائندون کو بتایا تھا کہ ’’صدر نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ ٹرمپ نے حال ہی میں کانگریس کے ایوان کے 120 سے زائد ارکان سے رابطہ کیا، جسے اُنھوں نے ’’غیر معمولی مہارت‘‘ قرار دیا۔

جب اُن سے پوچھا گیا آیا اسپیکر رائن نے ایوان کی مؤثر طور پر قیادت کی، اسپائسر نے کہا کہ ’’میرے خیال میں، اسپیکر نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔ اُنھوں نے صدر کے ساتھ قریبی تعلق جاری رکھا ہے‘‘۔ واضح رہے کہ ٹرمپ امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کے پرانے قانون ’اوباما کیئر‘ کو بدل کر نیا ’ہیلتھ کیئر‘ بنانا چاہتے ہیں۔ اوباماكيئر کو منسوخ کرکے اس کی جگہ نیا بل لانا ٹرمپ کی انتخابی مہم کے اہم وعدوں میں سے ایک تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز