تارکین وطن سے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی سے متاثرہ ہوسکتے ہیں تین لاکھ ہندوستانی

Feb 22, 2017 08:23 PM IST | Updated on: Feb 22, 2017 08:23 PM IST

نیویارک : امریکہ میں دستاویزات کے بغیر رہ رہے تقریبا 1.1 کروڑ تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیجنے سے متعلق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی سے تقریبا تین لاکھ ہند نزاد امریکیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔صدر ٹرمپ نے وفاقی امیگریشن قوانین کو نافذ کرنے کے طور طریقوں میں توسیع کر کے دستاویزات کے بغیر لاکھوں تارکین وطن کو ان کے ملک واپس بھیجنے کی سمت میں کام شروع کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ میں مقیم تقریبا گیارہ ملین تارکین وطن ایسے ہیں، جن کے پاس امریکہ میں قانونی طور پر سکونت کے دستاویزات نہیں۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ نئے اقدامات کے بعد امریکہ میں تارکین وطن برادریوں میں خوف کی لہر پھیل گئی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ میں مقیم ان افراد نے یہاں اپنے گھرانے بنا لیے ہیں اور جب کہ زندگی گزارنے کے لیے بھی ان کا واحد تکیہ اب یہی ملک ہے۔ غیرقانونی تارکین وطن میں سے زیادہ تر کا تعلق وسطیٰ امریکہ اور میکسیکو سے ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ یہ تارکین وطن ملک بدری کے سنجیدہ خطرے سے دوچار ہیں۔

تارکین وطن سے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی سے متاثرہ ہوسکتے ہیں تین لاکھ ہندوستانی

گیٹی امیجیز

ادھر انسانی حقوق کے گروپوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے ان اقدامات کو قربانی کا بکرا تلاش کرنے کے مترادف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی ملک بدریاں، کئی ایسے خاندانوں کو جدا کر دیں گی، جن کی جڑیں امریکہ میں قائم ہو چکی ہیں ، جب کہ اس سے امریکی اقتصادیات کو بھی نقصان پہنچے گا۔تاہم امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کے محکمے کے سکریٹری جان کیلی، جنہوں نے دو ہدایات نامے جاری کیے ہیں، ان اقدامات کو حکومتی وسائل پر غیرضروری دباؤ سے نجات کا اہم راستہ قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ڈیموکریٹ رکن سینیٹر بین کارڈن نے ان اقدامات کو ملکی قومی سلامتی اور عوام کے لیے خطرات پیدا کرنے سے تعبیر کیا ہے۔نیویارک کے میئر بل ڈے بلاسیو نے کہا ہےکہ انہوں نے اپنے شہر کے پولیس افسران کو امیگریشن ایجنٹ بننے سے روک دیا ہے اور نہ ہی وہ شہر کی جیلوں کو ملک بدری کی پالیسیوں پر عمل درآمد کی آماج گاہوں میں تبدیل ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے تمام کمیونیٹیز کے لیے اپنے دروازے کھول کر نیویارک کو ملک کا سب سے محفوظ شہر بنایا اور وہ اس درجے کو کسی صورت کھونے کو تیار نہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز