امریکی عدالت نے سات مسلم ممالک کے شہریوں پرعائد ٹرمپ کی پابندی کا حکمنامہ معطل کیا

Feb 04, 2017 05:34 PM IST | Updated on: Feb 04, 2017 05:34 PM IST

بوسٹن/ سیٹل۔  امریکہ میں سیٹل کی عدالت کے جج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر لگائی گئی پابندی پر عارضی روک لگا دی ہے، جس کا اطلاق قومی سطح پر ہوگا۔ سیٹل کے جج جیمس رابرٹ نے سرکاری وکلاء کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ کوئي امریکی ریاست صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو حکم پر فیصلہ نہیں دے سکتی۔ عدالت کا یہ حکم ٹرمپ انتظامیہ کے لئے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ واشنگٹن کے اٹارنی نے کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ "ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے یہ بہت اچھا دن ہے"۔ وہیں واشنگٹن اسٹیٹ کے اٹارنی جنرل باب پھرگیوسن نے کہا کہ پناہ گزینوں پر یہ پابندی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ حکومت اس حکم کا احترام کرے گی۔ کئی امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ اس کے علاوہ کئی فیڈرل ججوں نے ویزا یافتہ سیاحوں کو واپس بھیجنے پر بھی روک لگا دی ہے۔ تاہم ، ٹرمپ انتظامیہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔

عدالت نے مشورہ دیا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کی طرف سے سات مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلے پر لگائی گئی پابندی کو براہ راست ختم کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ 27 جنوری کو امیگریشن کے ایک ایگزیکٹو حکم پر یہ کہتے ہوئے دستخط کر دیا تھا کہ اس سے تارکین وطن کی تعداد کم ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی شامی پناہ گزینوں پر غیر معینہ پابندی لگا دی گئي ہے۔ پابندی کے تحت شام، عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کو 90 دنوں تک امریکی ویزا نہیں ملے گا۔

امریکی عدالت نے سات مسلم ممالک کے شہریوں پرعائد ٹرمپ کی پابندی کا حکمنامہ معطل کیا

تصویر: رائٹرز

امریکی صدر کے اس فیصلے کے بعد ہزاروں لوگ سڑکوں پر اتر آئے تھے ۔کئی مقامات پر  صدر کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے بعد سے 60 ہزار سے زائد ویزا منسوخ کیے جا چکے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز