اس رات لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں ، صرف پرچم تھے : طیب اردوغان

Jul 16, 2017 11:57 AM IST | Updated on: Jul 16, 2017 11:57 AM IST

انقرہ: ترکی کے صدر طیب اردوغان نے تختہ پلٹنے کی فوجیوں کی ناکام کوشش کی پہلی برسی پر استنبول میں منعقدہ ایک ریلی کے دوران لاکھوں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس رات لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں ، ان کے ہاتھوں میں پرچم تھے اور اس سے بڑھ کر ان کے پاس ایمان تھا۔ مسٹر اردوغان نے کہا کہ میں اپنے ملک کے ان تمام لوگوں کو شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کی حفاظت کی۔ انہوں نے کہاکہ 250 لوگوں نے اپنی جان دے کر ملک کا مستقبل محفوظ رکھا۔ اس موقع پر انھوں نے اس بغاوت کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے لیے سزائے موت کی حمایت اور کہا کہ انھیں گوانتانامو بے جیسے یونیفارم پہننے چاہییں۔ گذشتہ سال 15 جولائی کو فوج کے ایک حصے نے صدر رجب طیب اردوغان سے اقتدار چھیننے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی تھی اور اس واقعے میں کم از کم ڈھائی سو افراد ہلاک اور دو ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے حکومت نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا ہے اور یہ سلسلہ آج ایک برس پورا ہونے کے بعد بھی جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اردوغان اس بغاوت کے بعد ابھرنے والے جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنا چاہتے ہیں۔ ترک حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے کہ یہ برطرفیاں سیاسی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ بغاوت کا حامیوں کو نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔

اس رات لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں ، صرف پرچم تھے : طیب اردوغان

استنبول کے مشہور فاسفورس پل پر ہزاروں کی تعداد پر جمع ہونے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ ’میں اس قوم کا شکر گزار ہوں جنھوں نے اس ملک کی حفاظت کی۔‘ ترک صدر کا کہنا تھا کہ 250 افرد نے اپنی جانیں گنوائیں لیکن ملک کا مستقبل فتح کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’باغی جنھوں نے اس رات یہ پل بند کر دیا تھا وہ دنیا کو دکھانا چاہتے تھے کہ ان کے پاس کنٹرول ہے لیکن ان کا سامنا ان لاکھوں لوگوں سے تھا جو سڑکوں پر آئے اور اس رات اپنی قوم کے وقار کا دفاع کیا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان ’غداروں کے سر پھوڑ دیں گے‘ جنھوں نے بغاوت کی منصوبہ بندی کی۔

بعدازاں رجب طیب اردوغان نے پل پر ’یادگار شہدا‘ کی نقاب کشائی کی جو اس پل کو ’ 15 جولائی کے شہدا‘ کے نام منسوب کیا۔ اس دن کو سالانہ قومی تعطیل کے طور پر منانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ اس سے قبل برطانوی اخبار گارڈین میں چھپنے والے مضمون میں انھوں نے کہا ان ممالک نے ترکی کی دوستی کو دھوکا دیا اور یہ انتظار کرتے رہے کہ بغاوت کا کیا نیتجہ نکلتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ ممالک نے تو فتح اللہ گولن کے ساتھیوں کو پناہ تک دے دی۔ انھوں نے بغاوت کی ناکامی کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں پر کی گئی تنقید کو مسترد کرنے ہوئے کہا کہ یہ ناکامی جمہوریت کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

ترک حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ اس ناکام بغاوت کے پیچھے امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے۔ فتح اللہ گولن اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ امریکی حکومت نے بھی ترکی کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا کہ گولن کو ترکی کے حوالے کیا جائے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز