ناٹوفوجی مشق میں دشمن کی تصویر میں اتاترک کے استعمال پر ترکی کا شدید رد عمل ، فوج کو بلایا واپس

Nov 18, 2017 10:08 AM IST | Updated on: Nov 18, 2017 10:22 AM IST

برسیلز/استنبول : ترک سیاسی رہنمائوں کی مبینہ بے عزتی کے بعد ناروے میں ناٹو کی فوجی مشقوں سے علیحدہ ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایک فوجی مشق میں دشمن کی تصویر اصل میں ترکی کے بانی قائد مصطفیٰ کمال اتاترک کی تھی۔ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک سوشل میڈیا پر ترک صدر طیب رجب اردگان کے نام سے ایک جعلی اکاؤنٹ سے ناٹو مخالف پیغامات بھی بھیجے گئے ہیں۔ ان واقعات کے ردعمل میں ترکی نے مشقوں میں شریک اپنے 40 فوجیوں کو واپس بلا لیا ہے۔

ناٹو میں ترکی کی دوسری بڑی فوج ہے اور ترکی دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد اور افغانستان میں ناٹو مشن دونوں کا حصہ ہے۔دوسری جانب ناروے کے وزیردفاع نے اس واقعہ کے بعد معافی مانگی ہے اور انھوں نے اس واقعہ کی ذمہ داری ایک انفرادی شخص پر ڈالی۔ترک ٹی وی چینل این ٹی وی کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث وہ ایک شخص ترک نژاد ناورے کا فوجی ہے۔ناروے کے وزیردفاع کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث ناورے کا فوجی ایک ٹھیکیدار تھا جسے ان مشقوں کے لیے رکھا گیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ناٹوفوجی مشق میں دشمن کی تصویر میں اتاترک کے استعمال پر ترکی کا شدید رد عمل ، فوج کو بلایا واپس

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان: فائل فوٹو۔

ادھر ناٹو کے سیکرٹری جنرل ا سٹولٹنبرگ نے بھی اس حوالہ سے معافی مانگی ہے اور ترکی کو ناٹو کے فوجی اتحاد کا اہم حصہ قرار دیا۔ترکی کی عسکری اور سٹراٹیجک اہمیت کے باوجود شام، ایران اور عراق کے ساتھ متصل سرحدوں کی وجہ سے ترکی کے مغربی ممالک کے ساتھ گذشتہ چند سالوں سے تعلقات میں تناؤ رہا ہے۔

صدر اردوغان نے سرِعام آسٹریا، جرمنی، اور ہالینڈ کے ساتھ سفارتی لڑائی لڑی ہے جب انھوں نے ترکی کے شہریوں کی سیاسی ریلیوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ادھر ترکی نے روس کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوششیں کی ہیں اور شام میں فضائی کارروائیاں میں دونوں ممالک نے تعاون بھی کیا ہے۔ترکی کی یورپی یونین میں رکنیت بھی تاخیر اور دیگر مشکلات کا شکار ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز