یروشلم تنازع : او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب سربراہ کی عدم شرکت سوالات کے گھیرے میں 

گزشتہ روز ترکی کی راجدھانی استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ، جس میں امریکی صدر ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دینے کے اعلان پر تبادلہ خیال کیا گیا

Dec 14, 2017 06:17 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 06:21 PM IST

استنبول : گزشتہ روز ترکی کی راجدھانی استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا گیا ، جس میں امریکی صدر ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دینے کے اعلان پر تبادلہ خیال کیا گیا اور اس فیصلہ کی سخت مذمت کی گئی ۔ تاہم اوآئی سی کی اس میٹنگ میں سعودی عرب کے سربراہ کی عدم شرکت اب موضوع بحث بن گئی اور کہا جارہا ہے کہ ایک طرف تو سعودی عرب فلسطینی کاز کی مکمل حمایت اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونے کا دعوی کرتا ہے ، مگر جب کسی بڑے پلیٹ فارم پر جمع ہو کر کھل کر اس کی حمایت میں آواز بلند کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔

غور طلب ہے کہ 57 مسلم ممالک کی اس تنظیم کے اجلاس میں میزبان ترکی کے علاوہ 50 ممالک کے مندوبین شریک ہوئے۔ 22 ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی۔ تاہم سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے سربراہان اس اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے اور ان کی نمائندگی وہاں کے وزیروں نے کی۔جبکہ لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا کے صدر نکولاس ادورو نے غیر متوقع طور پر شرکت کرکے سب کو حیران کردیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امریکی فیصلہ کے خلا ف فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔بتایاجارہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس ماڈورو نے ترک صدر رجب طیب اردگان کی خصوصی درخواست پر بطور مہمان شرکت کی تھی۔

یروشلم تنازع : او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب سربراہ کی عدم شرکت سوالات کے گھیرے میں 

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان۔ تصویر: رائٹر، فائل فوٹو

سعودی عرب کے سربراہ کی عدم شرکت کے سبب اب او آئی سی میں شامل ممالک کے آپسی تعلقات پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیںاور کہا جارہا ہے کہ یہ ممالک تو خود ہی متحد نہیں ہیں ، پھر وہ القدس کی حفاظت کیا کریں گے اور امریکی فیصلہ کا منہ توڑ جواب کیسے دیں گے ۔ یہاں تک دعوی کیا جارہا ہے کہ سعودی عرب کا یہ قدم امریکہ اور اسرائیل سے بڑھتے تعلقات کا عکاس ہے اور ان دونوں ممالک سے قربت کی وجہ سے ہی سعودی عرب کے سربراہ نے شرکت نہیں کی بلکہ وزیر کو بھیج کر صرف رسم بھر ادا کردی۔

خیال رہے کہ او آئی سی نے امریکی صدر کے فیصلہ کے جواب میں مشرقی یروشلم کو فلسطین کی راجدھانی تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی برادری سے بھی مشرقی یروشلم کو فلسطین کی راجدھانی تسلیم کرنے کی اپیل کی ۔ اجلاس کے اختتام پر او آئی سی کی جانب سے ایک 23 نکاتی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ اگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یروشلم کے معاملے کے حل کے لیے کوئی قدم نہ اٹھایا تو رکن ممالک اس معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لے کر جائیں گے۔

Loading...

اعلامیہ کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام انتہا پسندی اور دہشت گردی بڑھائے گا۔ امریکہ کا مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اعلان امن عمل سے دستبرداری ہے لہذا امریکہ مشرق وسطیٰ امن عمل سے اپنا کردار ختم کرے۔ او آئی سی اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز