ارم منزل پرستم اورعلی نواز جنگ پرکرم کیوں؟۔ انجینئرڈے کے موقع پرتلنگانہ حکومت سے سوال– News18 Urdu

ارم منزل پرستم ڈھاکے علی نواز جنگ پرکرم کیوں؟۔ انجینئرڈے کے موقع پرتلنگانہ حکومت سے سوال

میراحمد علی نواب علی نواز جنگ بہادر11 جولائی 1877 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے انہوں نے سابقہ ریاست حیدرآباد کے علاوہ اس دور کے برٹش انڈیا میں آبی وسائل کے نیشنل پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کے طورپربھی اپنی خدمات انجام دیں

Jul 11, 2019 06:21 PM IST | Updated on: Jul 11, 2019 07:46 PM IST

علٰیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ہرسال 11 جولائی کو معروف انجنیئرعلی نوازجنگ بہادر کی یوم پیدایش کے موقع پرانجینئرزڈے منایا جاتاہے۔اس سال انجینئرز ڈے کے موقع پرتاریخی یادگاروں کے تحفظ کیلئے جہد کرنے والوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف تلنگانہ کی تاریخ کی اہم شخصیات کو یاد کو ہی نہیں تاریخی یادگاروں کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے

ہرسال پورے ملک میں 15 ستمبر کو معروف انجنیئرموکشا گنڈم وشوشرایا کے یوم پیدایش پرانجینئر دے منایا جاتا ہے۔ لیکن2014 ء میں علٰیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سابقہ ریاست حیدرآباد کیلئے اپنی بیش بہا خدمات انجام دینے والے مشہور و معروف انجنیئر میر احمد علی نواب علی نواز جنگ بہادر کے یوم پیدایش 11 جولائی کو سرکاری طورپرانجینئرز ڈے مناتے ہوئے ان کے کارناموں کو یاد کیا جاتا ہے انکے کارناموں میں آبپاشی اور پینے کے پانی کے ڈیمس حمایت ساگر عثمان ساگر نظام ساگر اور علی ساگر کی تعمیر شامل ہیں

ارم منزل پرستم  ڈھاکے علی نواز جنگ پرکرم کیوں؟۔ انجینئرڈے کے موقع پرتلنگانہ حکومت سے سوال

معروف انجنیئرعلی نوازجنگ۔(تصویر:سوشل میڈیا)۔

Loading...

نئی دہلی کا حیدرآباد ہاؤس بھی انھیں کی زیر نگرانی تعمیر کیا گیا تھا۔ تلنگانہ کی ریاستی حکومت شدید عوامی رد عمل کے باوجود تاریخی ارم منزل کو توڑ کر اسکی جگہ اسمبلی کی عمارت کی تعمیر کے منصوبہ میں لگی ہے-نواب علی نواز جنگ بہادر کی یوم پیدایش کے موقع پر حیدرآباد کی تاریخی یادگاروں اور ثقافت کے تحفظ کیلئے جہد کرنے والوں نے انھیں خراج پیش کیا-لیکن ساتھ ہی ساتھ حکومت تلنگانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تلنگانہ کی تاریخ اور تاریخی یادگاروں کی حفاظت سے متعلق سنجیدہ نہیں ہے

جہد کاروں سوال ہے کہارم منزل پرستم ڈھا کے علی نواز جنگ پرکرم کیوں ہے۔ سجاد شاہد کنوینر انٹاک کاکہناہے کہ تلنگانہ حکومت نے ایرم منزل کو منہدم کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ حکومت کے اس اقدام سے تاریخی ورثہ کو نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کو اپنے فیصلہ پرنظرثانی کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ میراحمد علی نواب علی نواز جنگ بہادر11 جولائی 1877 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے انہوں نے سابقہ ریاست حیدرآباد کے علاوہ اس دور کے برٹش انڈیا میں آبی وسائل کے نیشنل پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کے طورپربھی اپنی خدمات انجام دیں

نیوز18 اردو کے لیے حیدرآباد سے انیس الرحمان کی رپورٹ ۔۔۔

Loading...