بھوپال کی سیٹ پرسادھوی نے دگ وجے سنگھ کودی شکست۔ دیکھیں ویڈیو– News18 Urdu

بھوپال کی سیٹ پرسادھوی نے دگ وجے سنگھ کودی شکست۔ دیکھیں ویڈیو

مودی کی سونامی میں بڑے بڑے دگج ڈھیڑ

May 24, 2019 11:50 AM IST | Updated on: May 24, 2019 11:56 AM IST

دوہزار انیس کے لوک سبھا انتخابات میں نریندر مودی کی سونامی میں بڑے بڑے دگج ڈھیر ہوگئے۔ ان میں سے ایک نام کانگریس کے سینئر لیڈر اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلی دگ وجے سنگھ بھی ہیں جن کو بھوپال کی پُروقار سیٹ پر بی جے پی امیدوار سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کے ہاتھوں شکست جھیلنی پڑی۔دوہزار انیس کے عام انتخابات میں بی جے پی اور این ڈی اے کو دوہزار چودہ سے بھی بڑی کامیابی ملی ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے وزیراعظم نریندر مودی کے چہرے پر چناوی میدان میں تھی اور اب کی بار مودی کی سونامی سیاست کے کئی دگجوں کو بہا لے گئی۔ ان میں ایک نمایاں نام کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ کا ہے۔ جنہیں بی جے پی امیدوار سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر نے تین لاکھ سے زائد ووٹوں سے شکست دے دی۔

ایسے تو بھوپال کی سیٹ بی جے پی کی روایتی سیٹ مانی جاتی ہے۔ اور 1982 سے اس پارلیمانی حلقہ پر بی جے پی کا ہی قبضہ ہوتا رہا ہے۔ تاہم اس مرتبہ بھوپال میں کانگریس کے دگج لیڈر مانے جانے والے لیڈر دگ وجے سنگھ میدان میں تھے اورماناجارہا تھا کہ دگ وجے سنگھ سادھوی کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ جو نتیجہ آیا ہے اس کی امید بہت سے سیاسی پنڈتوں کو بھی نہیں تھی چونکہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکرنہ صرف سیاست میں نئی نویلی ہیں بلکہ ان کی شبیہ بھی داغدار رہی ہے۔ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ کی کلیدی ملزمہ ہیں اور ضمانت پر رہا ہیں۔

Loading...

سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکرانتخابی تشہیر کے دوران بھی تنازعہ میں گھر گئیں تھیں جب انہوں نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیا تھا۔ساتھ ہی شہید ہیمنت کرکرے کے بارے میں بھی کہا تھا کہ کرکرے کو انہوں نے شراپ دیا تھا اور وہ شہید نہیں ہیں۔ سادھوی کی جانب گوڈسے کو محب وطن بتائے جانے پر نہ صرف اپوزیشن جماعتوں نے خوب شور شرابا کیا تھا بلکہ خود وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گوڈسے پر دئے گئے بیان کے لئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کو کبھی من سے معاف نہیں کریں گے۔ تاہم جب چناوی نتیجے آئے تو وہ پرگیا سنگھ ٹھاکرکے حق میں آئے اور وہ بہ آسانی بھوپال کی سیٹ جیت گئیں۔سادھوی نے اپنی جیت کے بعد بھوپال کی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر کی جیت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چناوی سیاست میں اب جیت کا پرچم لہرانے کے لئے صاف ستھری شبیہ کی اتنی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔ یہ بس اب کہنے اور سننے میں اچھے لگتے ہیں۔

Loading...