اتراکھنڈ میں سینکڑوں مدرسہ ٹیچروں کو کئی سال سےنہیں ملی ہے تنخواہ– News18 Urdu

اتراکھنڈ میں سینکڑوں مدرسہ ٹیچروں کو کئی سال سےنہیں ملی ہے تنخواہ

مرکزی حکومت کی مدرسوں کو سدھارنے کی اس پہل کا اتراکھنڈمدرسہ بورڈ بھی استقبال کررہا ہے

Jun 14, 2019 06:05 PM IST | Updated on: Jun 14, 2019 06:05 PM IST

مودی حکومت پارٹ ٹو میں اقلیتوں اور مدارس کی ترقی کے بلند وبانگ دعوے کئے جارہے ہیں۔ایک جانب اسکالرشپ اسکیموں کا اعلان کیا جارہا ہے تو وہیں مدارس کوسہولتیں فراہم کرنے کی بات بھی کی جارہی ہے۔ایسے میں اتراکھنڈ کے مدارس انتظامیہ کو بھی امید جاگی ہے کہ پہاڑی ریاست میں بھی اقلیتوں اور مدارس کی اب ترقی ہوسکے گی۔

مرکزی مودی حکومت نے اپنے دوسرے دوراقتدارمیں اقلیتوں کلئے پہلے مہینے میں ہی اپنے ایجنڈے کا انکشاف کر دیا ہے۔ اگر حکومت کے ان دعوؤں میں حقیقت ہے یقیناً طرح۔طرح کے الزاموں سے گھرے ملک  بھر کے مدرسوں کو نئی پہچان مل سکے گی۔۔ بجٹ کی کمی اور سرکاری افسروں کی اندیکھی سے پریشان مدرسوں کو بنیادی سہولیات  کے مل جانے سے نہ صرف یہاں پڑھنے والے ہزاروں بچوں کو نئی سمت مل سکے گی بلکہ کئی۔کئی سال تک تنخواہ کیلئے جدوجہد کرنے والے مدرسہ ٹیچروں کو بھی بڑی راحت ملے گی۔ جانکار مانتے ہیں کہ ملک بھر کے مدرسوں میں نہ تو فرنیچر ملتا ہے نہ لائبریری اور نہ ہی کمپیوٹر ایجوکیشن کی سہولت ہے۔ ایسے میں اگر مرکزی حکومت کمیوں پر دھیان دیکر مدرسوں کے حالات سدھارتی ہے تو یہ مسلم کمینوٹی کی ترقی کیلئے بڑا اہم فیصلہ ہوگا۔۔

Loading...

مرکزی حکومت کی مدرسوں کو سدھارنے کی اس پہل کا اتراکھنڈمدرسہ  بورڈ بھی استقبال کررہا ہے۔۔ بورڈ کا ماننا ہے کہ بجٹ کے بڑھنے سے ہی زیادہ تر مسائل کا حل ہو جائے گا اس کے ساتھ ہی ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی پہل میں اس اسکیم کے آنے سے منصوبوں میں تیزی بھی آئے گی۔۔ جس کا سیدھا فائدہ ملک اور ریاست کے ان سبھی مدرسوں کو ملے گا جو آج سہولیات کی غیر موجودگی میں محض چندوں کے سہارے ہیں۔۔۔

یہ الگ بات ہے کہ ملک بھر میں مودی حکومت کی اس قواعد کو الگ الگ نظریے سے دیکھا جارہا ہے۔ مسلم کمیونٹی میں بھی مدرسوں اور اسکالرشپ اسکیموں کو لیکر استقبال اور مخالفت دونوں نظر آرہا ہے۔ لیکن ایک سچائی یہ بھی ہئ کہ ملک میں مدرسوں کی نہ توشبیہ اچھی ہےاور نہ حالات- اکیلے اتراکھنڈ میں سینکڑوں مدرسہ ٹیچروں کو کئی سال سے تنخواہ ہی نہیں ملی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاسر میں مدرسہ بورڈ کی ڈگریوں کو منظوری بھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں مدرسہ بورڈ کی ڈگریوں کو منظوری بھی نہیں ہے یعنی سدھار کے نام پر اس سلسلے کو زیرو سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔۔

نیوز18اردو کیلئے دہرادون سے آصف کی رپورٹ​

 

Loading...