ایکسکلوزیو : نہ تو یو پی اے اور نہ ہی این ڈی اے حکومت بنانے جارہی ہے : ممتا بنرجی– News18 Urdu

ایکسکلوزیو : نہ تو یو پی اے اور نہ ہی این ڈی اے حکومت بنانے جارہی ہے : ممتا بنرجی

ہمیں توڑنے کا کوئی سوال نہیں اٹھتا اور بی جے پی اس لوک سبھا انتخابات میں بنگال میں موجود ہ اپنی دو سیٹیں بھی گنوا دے گی ۔ یہ بات مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نیٹ ورک 18 کے ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خاص بات چیت کے دوران کہی۔

Apr 18, 2019 10:14 PM IST | Updated on: Apr 18, 2019 10:14 PM IST

ہمیں توڑنے کا کوئی سوال نہیں اٹھتا اور بی جے پی اس لوک سبھا انتخابات میں بنگال میں موجود ہ اپنی دو سیٹیں بھی گنوا دے گی ۔ یہ بات مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نیٹ ورک 18 کے ایڈیٹر ان چیف راہل جوشی کے ساتھ ایک خاص بات چیت کے دوران کہی۔

ممتا بنرجی سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایسی بحث ہے کہ یہ الیکشن آپ کے بننے یا ختم ہونے کا سوال ہوگا ۔ یہ یا تو آپ کو وزیر اعظم بناسکتا ہے یا پھر آپ مغربی بنگال کی وزیر اعلی کی سیٹ بھی کھودیں گی ، اس پر آپ کا کیا کہنا ہے ، تو وہ تھوڑی تلخ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی سوال ہی نہیں ہے اور بنانے کی بات کہاں سےا ٓگئی۔ کئی علاقائی پارٹیاں ایسی ہیں جو اب نیشنل پارٹیاں بن گئی ہیں۔ ٹی ایم سی بھی انہیں میں سے ایک ہے۔ ایسا ہی این سی پی ، ایس پی اور بی ایس پی کے معاملے بھی ہیں۔ ہم اپنی حکمت عملی ساتھ بنائیں گے ۔ جیتنا اور کھونا اہم بات نہیں ہے، ملک کو بچانا ہم سبھی کی پہلی فکر ہے نہ کی شخصی فائدہ یا ہدف ۔

ایکسکلوزیو : نہ تو یو پی اے اور نہ ہی این ڈی اے حکومت بنانے جارہی ہے : ممتا بنرجی

ایکسکلوزیو : نہ تو یو پی اے اور نہ ہی این ڈی اے حکومت بنانے جارہی ہے : ممتا بنرجی

ممتا کے سامنے بی جے پی کے بڑھتے اثر کے اعدادوشمار رکھے گئے اور بتایا گیا کہ بی جے پی کا ووٹ شیئر 2009 میں 10 فیصد تھا جو بڑھ کر 2014 میں 17 فیصد ہوگیا ، اس پر بڑے آرام سے انہوں نے کہا کہ دیکھئے سی پی ایم کے کچھ لوگوں نے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے ، ایک فریق ہوتا ہے اور ایک اپوزیشن ۔ ایسے میں ہماری حکومت ہے اور ہم ہی نمبر ایک ہیں۔ اب ووٹ شیئر یہ طے کرے گا کہ سی پی ایم ، کانگریس یا بی جے پی میں کون اپوزیشن کے طور پر آتا ہے۔ بی جے پی مرکز میں طاقتور ہے اور وہ ای ڈی اور سی بی آئی جیسے اداروں کے ذریعہ لوگوں کو دھمکا سکتی ہے۔ ایسے میں سی پی ایم کے کچھ کارکنان ، ساتھ ہی کانگریس کے بھی کچھ لوگ بی جے پی میں چلے گئے ہیں ۔ جب بی جے پی اقتدار میں نہیں رہے گی تو سبھی اس کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔

اسمبلی انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے پوچھے گئے سوال کہ ریاست میں اگر بی جے پی ایسے ہی بڑھتی رہی تو کیا یہ بڑا چیلنج ہوگا، اس کے جواب میں ممتا بنرجی نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہوگا ۔ 2004 کی بات کی جائے تو ہمارا ووٹ شیئر 30 فیصد تھا ، لیکن 42 میں سے صرف ایک سیٹ ہمارے کھاتے میں تھی ۔ وہیں بی جے پی کو 2014 کا ووٹ شیئر 31 فیصد تھا ، لیکن دہلی میں انہوں نے حکومت بنائی ۔ یہ ایسے کام نہیں کرتا ہے۔

چندرا بابو نائیڈو ، اکھلیش یادو اور تیجسوی سے بات چیت اور مشترکہ محاذ کے سوال پر ممتا نے کہا کہ ہاں یہ صحیح ہے کہ میں سبھی سے رابطے میں ہوں ، ہم سبھی ساتھ ہیں اور میرے سبھی سے اچھے تعلقات ہیں۔ بی ایس پی سپریمو مایا وتی سے تعلق کی بات پر انہوں نے کہا کہ میرے ان سے کافی بہتر تعلقات ہیں۔

کانگریس کی اسکیم کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ میں اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہنا چاہتی ہوں ، کیونکہ کانگریس اکیلے حکومت بنانے نہیں جارہی ہے۔ ایسے میں وہ ایسا کیسے کریں گے ؟ سبھی علاقائی پارٹیاں اب کافی مضبوط ہیں۔ میں آپ کو بتارہی ہوں کہ نہ تو این ڈی اے اور نہ ہی یو پی اے حکومت بنانے جارہی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی نیا فرنٹ سامنے آئے۔ اس کا انتظار کریں۔ میں جیوتشی نہیں ہوں ، اس لئے میں پیشین گوئی نہیں کرسکتی ۔ امید ہے اور گنجائش بھی کہ ان مضبوط علاقائی طاقتوں کے ساتھ ہی حکومت سازی ہو۔