اترپردیش کی سیاست میں بی ایس پی صدر مایاوتی ہر نفع نقصان کو دیکھتے ہوئے چل رہی ہیں۔ , why-mayawati-made-a-strong-appeal-to-muslims-to-not-split-their-votes un– News18 Urdu

....تو اس وجہ سے مایاوتی نہیں چاہتیں کہ مسلمانوں کا ووٹ کانگریس اور گٹھ بندھن میں تقسیم ہو جائے

اترپردیش کی سیاست میں بی ایس پی صدر مایاوتی ہر نفع و نقصان کو دیکھتے ہوئے چل رہی ہیں۔

Apr 08, 2019 12:26 PM IST | Updated on: Apr 08, 2019 12:38 PM IST

اترپردیش کی سیاست میں بی ایس پی صدر مایاوتی ہر نفع و نقصان کو دیکھتے ہوئے چل رہی ہیں۔ اتوار کے روزہوئی  گٹھ بندھن کی مشترکہ ریلی میں مایاوتی نے مسلمانوں سے کہا کہ ان کا ووٹ کانگریس اور  گٹھ بندھن کے بیچ نہ تقسیم ہو پائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کہنا مایاوتی کی مجبوری ہے؟ دراصل، سماجوادی پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملا کر مایاوتی چاہتی ہیں کہ اگر انہیں اقلیتوں کے ووٹ نہیں ملے تو ان کی راہ مشکل ہو سکتی ہے۔ خاص کر ان سیٹوں پر جہاں مسلم ووٹرس کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لئے مایاوتی گٹھ بندھن کے لئے اقلیتی وووٹر کو ایک ساتھ کرنے کی کوشش میں لگی ہیں۔

کوئی بھی الیکشن جیتنے کے عام طور پر دو طریقے ہوتے ہیں۔ پہلا کسی پارٹی یا خاص گروپ کی بنیاد پر اپنے ووٹرس کو جمع کیا جائے اور دوسرا سامنے والی پارٹی کے ووٹر کو زیادہ سے زیادہ تقسیم کیا جائے۔ بی ایس پی صدر مایاوتی نے بھی دیوبند کی ریلی میں جس طرح کی تقریر کی اس کا مقصد بھی مسلمانوں کو گٹھ بندھن کے ساتھ بنائے رکھنا تھا، یہ بات اور ہے کہ ووٹوں کے پولرائزیشن کی گنجائش ہمیشہ بنی رہتی ہے۔

....تو اس وجہ سے مایاوتی نہیں چاہتیں کہ مسلمانوں کا ووٹ کانگریس اور گٹھ بندھن میں تقسیم ہو جائے

بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایاوتی: فائل فوٹو

بی ایس پی پوری طرح اقلیتوں کے ووٹوں پر فوکس کرتی ہے اور اس بات کا اندازہ پرانے انتخابات میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ خاص کر اس پورے سیاسی حساب کتاب کو ڈی ایم فیکٹر کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی دلت اور مسلم فیکٹر۔ مغربی یوپی میں یہ فیکٹر کافی مؤثر ہے، جہاں کچھ سیٹوں پر تقریبا 50 فیصدی تو کچھ سیٹوں پر 40فیصدی ووٹرس ڈی ایم فیکٹرس والے ہی ہیں۔ 2007 میں جب مایاوتی مکمل اکثریت کے ساتھ وزیر اعلی بنی تھیں، تو ان کی پارٹی سے الیکشن لڑے 58 مسلم امیدواروں میں سے 28 کو جیت حاصل ہوئی تھی۔ یعنی 50 فیصد وہ کامیاب ہوئی تھیں۔ مایاوتی نے یہی طریقہ 2012 اور 2017 کے اسمبلی انتخابات میں بھی اپنایا، لیکن دونوں بار نتائج اتنے بہتر نہیں رہے۔ 2012 میں ڈی ایم فیکٹر سے ووٹ 18 فیصد رہا، وہیں 2018 میں یہ 8 فیصد پر پہنچ گیا۔

دراصل، ایس پی اور کانگریس نے مل کر لگاتار مایاوتی کے اقلیتی ووٹ بینک پر چوٹ کی ہے۔ خاص طور پر کچھ دنوں کے لئے اترپردیش میں بی جے پی سے مایاوتی کے ہاتھ ملانے سے بھی کافی مسلم ووٹرس مایاوتی سے ناراض ہوئے۔ ایسے میں اس بار مایاوتی کوئی رسک نہیں لینا چاہتیں۔ وہ جانتی ہیں کہ اگر مسلم ووٹ کانگریس اور گٹھ بندھن کے بیچ تقسیم ہو گیا تو اس سے کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوگا اور یقینی طور پر وہ یہ بالکل بھی نہیں چاہیں گی۔