اقوام متحدہ کی سیکڑوں روہنگیا خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کی تصدیق ، جسموں پر خوفناک جنسی تشدد کے نشانات

Sep 25, 2017 04:30 PM IST | Updated on: Sep 25, 2017 04:30 PM IST

کوکس بازار : اقوام متحدہ کے ڈاکٹروں نے میانمار میں روہنگیا مسلمان خواتین کے ساتھ زیادتیوں کی تصدیق کردی ہے۔ بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپوں میں روہنگیا مسلمانوں کا علاج کرنے والے اقوام متحدہ کے ڈاکٹروں اور طبی ماہرین نے بتایا کہ انہوں نے درجنوں روہنگیا خواتین کے جسموں پر خوفناک جنسی تشدد کے نشانات دیکھے جنہیں دیکھ کر حیوان بھی شرما جائیں۔ اقوام متحدہ کے طبی ماہرین کے اس انکشاف کے بعد میانمار کی مسلح افواج کی جانب سے روہنگیا خواتین پر جنسی تشدد کی تصدیق ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (آئی او ایم) کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہوں نے سیکڑوں خواتین کا اعلاج کیا جن کے جسموں پر جنسی حملوں کے خوفناک گھاؤ تھے۔ برمی فوجی مسلمان خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان پر تشدد بھی کرتی ہے یہاں تک کہ بعض عورتوں کے نازک اعضا پر بندوق داخل کرنے کی انسانیت سوز کوشش کی گئی۔ آئی او ایم کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ایک خاتون کے ساتھ کم از کم 7 برمی فوجیوں نے زیادتی کی اور وہ انتہائی کمزور اور صدمے کی کیفیت میں تھی۔

اقوام متحدہ کی سیکڑوں روہنگیا خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کی تصدیق ، جسموں پر خوفناک جنسی تشدد کے نشانات

روہنگیا پناہ گزینوں کے ایک گروپ کی فائل فوٹو: رائٹرز۔

بنگلہ دیش کے کوکس بازار میں 8 طبی ماہرین نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اگست کے آخر میں 25 سے زیادہ روہنگیا خواتین کا علاج کیا جن کے ساتھ میانمار کے فوجیوں نے زیادتی کی تھی۔ اقوام متحدہ کے ڈاکٹرز اور امدادی کارکن عموما کسی ملک کی مسلح افواج کے ہاتھوں جنسی زیادتیوں پر بات نہیں کرتے لیکن روہنگیا خواتین کے ساتھ ہونے والی جنسی درندگی کا مظاہرہ اتنا سنگین ہے کہ وہ بھی بولنے پر مجبور ہوگئے۔ امدادی تنظیموں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ زیادتی کا شکار 350 سے زائد افراد کی حالت اتنی خراب تھی کہ انہیں جان بچانے والی طبی امداد فراہم کرنی پڑی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز