روہنگیا مسلمانوں کے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کے پیش نظر اقوام متحدہ کا انسانی تباہی کا انتباہ

Sep 06, 2017 05:22 PM IST | Updated on: Sep 06, 2017 05:22 PM IST

رنگون/ شملاپور (بنگلہ دیش)۔  دو ہفتے سے کم وقت میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ روہنگیا مسلمان میانمار میں تشدد سے بھاگ کر بنگلہ دیش کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہ اطلاع حکام نے آج دی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے میانمار میں نسلی  در بدری (نسل کشی) کے خطرے کا انتباہ دیا ہے، جس سے خطے میں بڑے وسیع پیمانے پر عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ میانمار کی رہنما آنگ سان سوکی نے راخین میں تشدد پر غلط معلومات پھیلانے کے لئے دہشت گردوں کو مورد الزام ٹھہرایا لیکن انہوں نے گزشتہ 25 اگست سے تشدد کا شکار ہونے والے روہنگیا مسلمانوں کے بنگلہ دیش فرارہونے کا کوئی ذکر نہيں کیا۔

مسلم اکثریتی ممالک بالخصوص انڈونیشیا کی طرف سے آنگ سان سوکی پر دباؤ بڑھایا جارہا ہے، جہاں متعدد مسلم جماعتوں کی قیادت میں ہزاروں مظاہرین نے آج جکارتہ میں ریلی نکالی اور بدھسٹ اکثریتی ملک میانمار کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل منگل کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنے مکتوب میں سکریٹری جنرل انٹونیو گتیرز نے تشویش ظاہر کی ہے کہ میانمار میں تشدد خطے میں انسانی تباہی کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔

روہنگیا مسلمانوں کے بنگلہ دیش میں داخل ہونے کے پیش نظر اقوام متحدہ کا انسانی تباہی کا انتباہ

روہنگیا بچے بنگلہ دیش ۔ میانمار سرحد پر واقع باڑ پار کرکے بندربن میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے: رائٹرز۔

میانمار کے ہمسایہ بنگلہ دیش کے دور افتادہ خستہ حال سرحدی علاقہ کوکس بازار میں رائٹر کے نمائندوں نے روہنگیا مسلمانوں کو کشتیوں میں لدے ہوئے سرحدی گاؤں شملاپور میں آتے ہوئے دیکھا ہے۔ کوکس بازار میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے عملہ کے تازہ تخمینہ کے مطابق صرف گزشتہ 12 دنوں میں ایک لاکھ 46 ہزار افراد بنگلہ دیش آئے ہیں۔ جس سے بنگلہ دیش میں گزشتہ سال اکتوبر کے تشدد کے بعد روہنگیا پناہ گزینوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ آج آنے والے روہنگیائی مسلمانوں نے بتایا حکام کو بتایا کہ 100 سے زيادہ لوگوں لانے والی تین کشتیاں آج سویرے سمندر میں ڈوب گئی ہيں۔ ساحلی محافظ دستہ کے کمانڈر ایم ایس کبیر نے بتایا کہ اب تک چھ لاشیں ساحل پر تیرتی ہوئي ملی ہيں۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں (بیشتر بیمار اور زخمی حالت میں) کی تعداد بڑھنے سے امدادی ایجنسیوں کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے جو میانمار میں پہلے ہی تشدد سے بھاگ کر آنے والے ہزاروں پناہ گزینوں کی مدد پہنچانے میں مصروف ہيں۔ بیشتر پناہ گزینوں کو اب تک پناہ گاہ بھی نہیں ملی ہے اور کثیر تعداد میں نئے پناہ گزین آنے کے بعد امدادی ایجنسیوں کو انہیں صاف پانی، حفظان صحت اور خوراک کی سہولت فراہم کرنے کے لئے تگ و دو کرنا پڑ رہا ہے۔

علاقے میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بیشتر لوگ خالی ہاتھ آئے ہيں اور لوگ بے سرو سامانی کی حالت میں جمع ہیں، جنہيں خوراک فراہم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ بڑی تعداد میں پناہ گزیں ہونے کے سبب انہيں خوراک پہنچانے کے لئے یہ تشویش ہے کہ ان کے لئے خوراک کہاں سے آئے گی، جن میں کم سے کم بوڑھوں، بچوں اور ان خواتین کو خوراک پہنچانا ضروری ہے، جن کے شوہر یا رشتہ دار ان کے ساتھ یہاں نہیں پہنچ سکے ہيں۔ میانمار کی لیڈر آنگ سان سوکی کے ساتھ کل ہی ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے ٹیلیفون پر بات کی ہے، جنہوں نے نسل کشی کا سامنا کرنے والی گیارہ لاکھ روہنگیا آبادی کی مدد کے لئے مزید اقدامات کرنے کے لئے عالمی رہنماؤں پر دباؤ ڈالا ہے۔

آنگ سان سوکی کے دفتر سے ایک بیان فیس بک پر جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میانمار حکومت راخین میں تمام شہریوں کا ہر ممکن طریقے سے دفاع کررہی ہے۔ انہو ں نے اس سلسلے میں غلط معلومات پھیلانے والوں سے متنبہ رہنے کو بھی کہا کہ جن کی وجہ سے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات میں تلخی آ سکتی ہے۔ انہوں نے ترکی کے نائب وزیر اعظم کے ذریعہ ٹوئیٹر پر پوسٹ کی جانے والی چند تصاویر کی طرف اشارہ کیا، جن کو بعد میں انہوں نے ڈیلیٹ کردیا تھا، کیونکہ وہ میانمار کی نہيں تھیں۔

آنگ سان سوکی نے آج ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، جنہوں نے راخین میں انتہا پسندوں کے تشدد پر میانمار کی تشویش کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے گزشتہ کئی برسوں میں تقریبا 40 ہزار روہنگیا افراد کے ہندوستان میں پناہ لینے پر سخت موقف اختیار کیا ہے اور گزشتہ ماہ انہیں واپس اپنے ملک واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز