کانوڑ یاترا میں ہنگامہ کے خوف سے نقل مکانی کر گئی اس گاؤں کی آدھی مسلم آبادی

پولیس کے ریڈ کارڈ نوٹس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے 150 سے زیادہ کنبہ اپنے ۔ اپنے گھروں پر تالا لگاکر چلے گئے ۔ انہیں ڈر ہے کہ گاؤں سے گزرنے والی کانوڑ یاترا میں اگر کچھ ہنگامہ ہوا تو الزام ان پر لگے گا۔

Aug 10, 2018 03:23 PM IST | Updated on: Aug 14, 2018 02:26 PM IST

یوپی کے بریلی جنپد کے کھیلم گاؤں میں ان دنوں سناٹا پسرا ہوا ہے۔ مسلم اکثریتی اس گاؤں کے زیادہ گھرو ں میں تالا لٹکا ہوا ہے۔ لوگ کم اور پولیس کی وردی میں جوان زیادہ نظر آرہے ہیں۔ وجہ ہے کانوڑ یاترا ۔ در اصل گزشتہ سال شیو راتری کے دن ہی کانوڑ یاترا کے دوران اس گاؤں میں فرقہ وارانہ فساد ہوا تھا۔ پچھلے سال کے واقعہ سے سبق لیتے ہوئے اس مرتبہ سخت ہدایت دی گئی تھی کہ کوئی شرارت نہیں ہونی چاہئے۔

پولیس کے ریڈ کارڈ نوٹس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی کے 150 سے زیادہ کنبہ اپنے اپنے گھروں پر تالا لگاکر چلے گئے ۔ انہیں ڈر ہے کہ گاؤں سے گزرنے والی کانوڑ یاترا میں اگر کچھ  ہنگامہ ہوا تو الزام ان پر لگے گا۔ جمعرات کوبھاری پولیس فورس کی موجودگی میں یہاں سے کانوڑ یاترا گزری۔ گاؤں کی گلیوں میں ہر جانب خاکی وردی میں پولیس کے جوان نظر آ رہے تھے۔

کانوڑ یاترا میں ہنگامہ کے خوف سے نقل مکانی کر گئی اس گاؤں کی آدھی مسلم آبادی

Loading...

bareilly-police

مسلم اکثریتی  بستی میں گھروں  کے باہر تالے لگے تھے اور جہاں تالے نہیں لگے تھے وہاں صرف کچھ ہی لوگ نظر آ رہے تھے ۔ پولیس نے کانوڑ یاترا کو امن کے ساتھ نکالنے کیلئے گاؤں کے 445 لوگوں کے خلاف کارروئی کےساتھ ۔ساتھ ریڈ کارڈ بھی جاری کیا تھا ۔کچھ لوگوں کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی تھی جس میں دونوں طرف کے لوگوں پر مقدمہ درج ہوا تھا۔

 مسلم سماج کے لوگوں کی مانیں تو گاؤں کے تقریبا 150 کنبے پولیس کی کارروائی کے ڈر سے گھروں میں تالا لگاکر چلے گئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ اگر کانوڑ یاترا میں کوئی ہنگامہ ہوا تو بے قصور لوگوں پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ اگر وہ گاؤں میں ہی نہیں رہیں گے تو پھر ان کا  نام نہیں آئے گا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز