یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی منظور کرنے پر ٹرمپ کو اتحادیوں اور بیرونی حکام کا انتباہ

Dec 05, 2017 08:30 PM IST | Updated on: Dec 05, 2017 08:30 PM IST

واشنگٹن۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کئے جانے کی امریکی غیر ملکی حکام اور امریکی اتحادیوں نے یہ کہہ کر مخالفت شروع کر دی ہے کہ اس سے تشدد بھڑک سکتا ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس کا اطلاق نہیں کیا جانا چاہئے۔ یہ دہائیوں پرانی امریکی پالیسی کی بھی خلاف ورزی ہوگی، جس میں یروشلم پر فیصلے کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے بھروسے پر چھوڑ دیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یروشلم پر بات چیت کرنے اور فیصلہ سازی کی بنیاد پر ہی یہ پالیسی بنائی گئی تھی۔

حکام نے کہا کہ اگر مسٹر ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کی حیثیت سے منظوری دے دیتے ہیں تو پوری دنیا کے مسلمان یا فلسطینی حامی پرتشدد مظاہرے شروع کر سکتے ہیں۔ یروشلم کا معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کیونکہ وہاں یہودیوں کا مقدس معبد (ٹیمپل ڈوم) اور مسلمانوں کا مقدس حرم بھی موجود ہے۔ اسلام میں تیسرا سب سے مقدس مقام مسجد اقصی وہیں قائم ہے۔

یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی منظور کرنے پر ٹرمپ کو اتحادیوں اور بیرونی حکام کا انتباہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو

ایک امریکی اہلکار نے گزشتہ ہفتہ بتایا تھا کہ مسٹر ٹرمپ اس بارے میں کل تک اعلان کر سكتے ہیں جبکہ اس مسئلہ پر مسٹر ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ كشنر نے آج کہا کہ امریکی صدر نے یروشلم کو باضابطہ طور پر اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔

خارجہ امور سے متعلق امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ محکمہ امور مشرق قریب (این ای اے) کے اہلکاروں نے مسٹر ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کئے جانے کی خبروں پر مخالفت شروع کردی ہے۔ محکمہ مشرق قریب (این ای اے) کے سینئر حکام اور خطے کے متعدد سفیروں نے ایسا کرنے پر سلامتی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز