آٹھ ممالک کے شہریوں پر پابندی معاملہ میں ٹرمپ کو عدالت نے ایک بار پھر دیا جھٹکا

Oct 18, 2017 11:43 AM IST | Updated on: Oct 18, 2017 11:43 AM IST

ہونو لولو۔ امریکہ کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حال ہی میں آٹھ ممالک کے شہریوں کے امریکہ آنے پر پابندی لگانے کی ہدایت کو نافذ کرنے پر روک لگا دی ہے۔ مسٹر ٹرمپ کی یہ سفری پابندی اسی ہفتہ سے نافذ ہونی تھی لیکن ایک وفاقی جج نے اس ہدایت پر عارضی طورپر روک لگا دی ہے۔ اس نئی سفری پابندی میں ایران، لیبیا، شام، یمن ، صومالیہ، چاڈ اور شمالی کو ریا کے شہری شامل تھے۔ اس کے علاوہ وینزوئیلا کے چند اہلکار وں پر بھی پابندی لگائی گئی تھی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے جو پابندی لگانے کی کوشش کی تھی اس میں چھ مسلم اکثریتی ممالک کو شامل کیا گیا تھا تاہم اسے ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے روک دیا تھا۔ خیال رہے کہ ہوائی صوبہ نے ہونولولو میں ٹرمپ کی اس سفری پابندی کے خلاف معاملہ درج کرایا تھا۔ یہ پابندی آج سے ہی نافذ ہونی تھی۔ عدالت میں ہوئی بحث کے دوران ہوائی صوبہ نے کہاکہ وفاقی امیگریشن قوانین کے تحت صدر کو سفری پابندی لگانے اختیار نہیں ہے۔

مسٹر ٹرمپ کو دوسری مرتبہ عدالت سے جھٹکا لگا ہے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ دونوں ہی مرتبہ ایک ہی جج نے انہیں جھٹکا دیا۔ امریکہ کے جج ڈیرک واٹسن نے اس پابندی پر روک لگانے کا حکم دیا ہے یہ وہی جج ہیں جنہوں نے مارچ میں مسٹر ٹرمپ کے گزشتہ پابندی پر روک لگا دی تھی۔ جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا کہ یہ نئی پالیسی بھی پرانی پالیسیوں کی طرح ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسا کچھ بھی نہیں ملا جس سے یہ پتہ لگایا جاسکے کہ چھ ممالک کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ شہریوں کاا امریکہ آنا امریکی لوگوں کے مفادات کے لئے واقعی منافی ثابت ہوگا۔

آٹھ ممالک کے شہریوں پر پابندی معاملہ میں ٹرمپ کو عدالت نے ایک بار پھر دیا جھٹکا

امریکہ میں مسلمانوں کی سفری پابندی کے خلاف خواتین احتجاج کرتی ہوئیں: فائل فوٹو، رائٹرز۔

ہوائی صوبہ نے اپنی دلیل میں کہا کہ صدر ٹرمپ مسلم ممالک کے خلاف اپنی پالیسی اور الیکشن کے وقت کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے یہ پابندی لگا رہے ہیں۔ اس بار کی سفری پابندی میں مسلم ممالک کے علاوہ شمالی کوریا اور وینزوئیلا بھی شامل ہیں۔ ہوائی کے علاوہ واشنگٹن اسٹیٹ، ماساچیوسٹس، کیلیفورنیا، اوریگون،، نیو یارک اور میری لینڈ بھی اس سفری پابندی کے خلاف ہیں۔ اس درمیان وہائٹ ہاوس کے پریس سکریٹری سارا ہوکابی سینڈرس نے کہا کہ یہ پابندی امریکی شہریوں کی سیکورٹی کے پیش نظر لگائی گئی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ عدالت صدر ٹرمپ کی اس پابندی کو پھر سے نافذ کرے گی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو۔

مسٹرٹرمپ نے مارچ میں چھ مسلم ممالک کے خلاف سفر ی پابندی لگائی تھی ۔ اس متنازعہ پابندی کو اس وقت ’مسلم بین‘ تک کہا گیا تھا۔ اس پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے تھے۔ بعد میں جولائی مہینہ میں امریکی سپریم کورٹ نے اس پابندی کو ہٹا دیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز