ویزا پابندی کے فیصلہ پر ٹرمپ کو دوسرا بڑا عدالتی جھٹکا ، وفاقی عدالت نے مسترد کی اپیل

Feb 05, 2017 06:45 PM IST | Updated on: Feb 05, 2017 06:48 PM IST

واشنگٹن۔ سفری پابندیوں کی معطلی کے عدالتی فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کی درخواست کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سےداخل کردہ ہنگامی اپیل سان فرانسسکو کی اپیل کورٹ نے مسترد کردی۔ اس طرح دو دنوں میں ٹرمپ کو اس محاذ پر دوسرا بڑا عدالتی جھٹکا لگا ہے۔ پرسوں امریکی ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل کے وفاقی جج جیمز رابرٹ نے اس پابندی کو عارضی طور پر ملک بھر سے ختم کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا، جس کے بعد ہفتے کے دن امریکی محکمہ انصاف کی طرف سے اس کے خلاف عدالتی اپیل دائر کر دی گئی تھی۔ محکمہ انصاف نے اپیل کی تھی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ ایگزیکٹو آرڈر امریکا کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر جاری کیا گیا تھا اور اس پر فوری اطلاق ہونا چاہیے۔ تاہم اپیل کورٹ نے کہا ہے کہ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہیں لیا جا سکتا بلکہ اس تناظر میں اس کا موقف بھی سننا ضروری ہے۔

اپیل کورٹ نے کہا ہے کہ امریکا کے ایک وفاقی جج کی طرف سے سفری پابندیوں کی معطلی کے فیصلے کو فوری طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ توقع ہے کہ اب کل یعنی پیر کی شام تک اس اپیل پر دوبارہ سماعت ہو سکے گی۔ رائٹر نے خبر دی ہے کہ امریکی محکمہ دفاع نے سفری پابندیوں کی معطلی کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی کا مقصد امریکا کو تحفظ فراہم کرنا ہے، اس لیے اس پر فوری عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مہاجرین اور سات مسلم ممالک کے شہریوں کی امریکا آمد پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ہفتے کے دن دائر کردہ اس اپیل کے درخواست دہندگان میں ڈونلڈ ٹرمپ بطور امریکی صدر جبکہ ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری جان کیلی اور وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بھی شامل ہیں۔

ویزا پابندی کے فیصلہ پر ٹرمپ کو دوسرا بڑا عدالتی جھٹکا ، وفاقی عدالت نے مسترد کی اپیل

اے پی

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے صرف ایک ہفتہ بعد 27 جنوری کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا، جس کے تحت سات مسلم اکثریتی ملک ایران، عراق، شام، لیبیا، سوڈان، صومالیہ اور یمن کے شہریوں کی امریکا آمد پر نوّے دن کی پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ مہاجرین کی امریکا آمد پر ایک سو بیس دن کی پابندی تھی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز