امریکہ کا رائٹرز کے صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ

Dec 16, 2017 09:24 PM IST | Updated on: Dec 16, 2017 09:24 PM IST

اقوام متحدہ / ینگون۔ امریکہ نے میانمار میں گرفتار کئے گئے رائٹرکے دو صحافیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے کل کہا کہ میانمار میں گرفتار رائٹر کے دو صحافیوں کو وہاں کی حکومت کو فوری طور پر رہا کرنا چاہئے۔

صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ کرنے والوں میں اقوام متحدہ، برطانیہ، سويڈن اور بنگلہ دیش کے ساتھ امریکہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ ان ممالک نے اس گرفتاری کی سخت مذمت کی ہے۔

امریکہ کا رائٹرز کے صحافیوں کی رہائی کا مطالبہ

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن: فائل فوٹو، رائٹرز۔

غور طلب ہے کہ صحافی و لون (31) اور کوا سوئے او (27) کو منگل کو ینگون میں پولیس حکام کے ساتھ رات کے کھانے پر مدعو کیا گیا تھا، اس کے بعد سے دونوں لاپتہ ہیں۔ دونوں صحافی رخائن صوبے میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہو نے والے تشدد کے واقعات پر کام کر رہے تھے۔ میانمار کی وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ رائٹر کے صحافیوں نے غیر قانونی طریقے سے معلومات اکٹھا کیں تاکہ اسے غیر ملکی میڈیا میں تقسیم کر سکیں۔ "وزارت نے بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی ہے جس میں صحافیوں کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ میانمار کے صوبہ رخائن میں روہنگیائی اقلیتوں کے خلاف گزشتہ 25 اگست سے شروع ہوئے تشدد کی وجہ سے جان بچا کر چھ لاکھ 26 ہزار سے زیادہ لوگ بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے میانمار فوج کی طرف سے روہنگیا کے خلاف کی جا رہی کارروائی کو ’نسلی قتل عام‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ تشدد کرنے والوں پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صحافیوں کی گرفتاری کو میانمار میں پریس کی آزادی پر خطرے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں کی رہائی کے لئے بین الاقوامی برادری کو ہر ممکن قدم اٹھانا چاہئے۔ انہوں نے ٹوکیو میں صحافیوں سے کہا، "یہ واضح طور پر میانمار میں پریس کی آزادی میں آ رہی کمی ہے، جو باعث تشویش ہے۔"انہوں نے کہا، "چونکہ وسیع پیمانے پر ہوئے انسانی المیہ کے واقعات کو دیکھنے کے بعد دونوں رپورٹ کر رہے تھے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز