امریکہ نے افغانستان میں گرایا دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا بم : پینٹاگون

Apr 13, 2017 11:14 PM IST | Updated on: Apr 14, 2017 12:03 AM IST

واشنگٹن: امریکہ نے مشرقی افغانستان میں صوبہ ننگرهار کے ضلع آچھن میں آج اسلامک اسٹیٹ (داعش)کے دہشت گردوں کے ذریعہ استعمال کی جانے والے پہاڑی گپھاؤں کو نشانہ بنا کرسب سے وزنی بم جی بی یو-43 گرایا۔ یہ سب سے بڑا غیر ایٹمی بم ہے جس کا جنگی علاقوں میں شاید ہی کبھی استعمال کیا گیا ہو۔ امریکی وزارت دفاع پنٹاگن کے ترجمان ایڈم سٹمپ نے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اتنا وزنی بم گرایا ہے۔

اسے امریکی جنگی طیارے ایم سی -130 سے ​​ضلع آچھن میں ان پہاڑی گپھاؤں کو نشانہ بناکر گرایا گيا ہے، جہاں جنگجو چھپے ہوئے ہيں۔ یہ علاقہ پاکستانی سرحد کے قریب ہے۔ اس بم کا وزن 9797 ملی گرام ہے جس میں جی پی ایس کنٹرول ہے اور اسے اس قدر وزنی ہونے کی وجہ سے تمام بموں کی ماں کہا گیا ہے۔ اس کا ٹیسٹ عراقی جنگ شروع هونے سے پہلے مارچ 2003 میں کیا گیا تھا۔

امریکہ نے افغانستان میں گرایا دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا بم : پینٹاگون

اس ایک بم کی قیمت 314 ملین ڈالر یعنی تقریبا دو ہزار کروڑ روپے بتائی جارہی ہے۔ دنیا میں پہلی مرتبہ اس بم کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس طرح کے پوری دنیا میں صرف 15 بم ہی موجود ہے۔ معلومات کے مطابق افغانستان کے اچن ضلع میں داعش کے ٹھکانے پر شام 7 بجے امریکہ نے یہ حملہ کیا ہے۔

افغانستان میں امریکی فوج اور بین الاقوامی افواج کے سربراہ جنرل جان نكلسن نے بتایا کہ یہ بم داعش کے دہشت گردوں کے چھپنے کے گپھاؤں اور بنکروں کو نشانہ بنا کر گرایا گیا جس سے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ ابھی تک یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ اس بم سے کتنا نقصان ہوا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز