عراق سے واپس لوٹیں ایرانی جنگجو: ریکس ٹلرسن

ریاض/دوحہ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے عراق اور عرب کے لیڈروں کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ کرنے کے بعد آج کہا کہ اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس)سے لڑنے میں عراق کی مدد کرنے والے ایران حامی جنگجوؤں کو واپس لوٹ جانا چاہئے۔

Oct 23, 2017 04:48 PM IST | Updated on: Oct 23, 2017 04:49 PM IST

ریاض/دوحہ۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے عراق اور عرب کے لیڈروں کے ساتھ ایک مشترکہ میٹنگ کرنے کے بعد آج کہا کہ اسلامک اسٹیٹ(آئی ایس)سے لڑنے میں عراق کی مدد کرنے والے ایران حامی جنگجوؤں کو واپس لوٹ جانا چاہئے۔ مسٹر ٹلرسن کے اس بیان کو خلیجی ممالک پر ایران کے اثرات کو کم کرنے کی امریکی کوششوں کی شکل میں دیکھا جارہا ہے۔امریکہ وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران حمایت یافتہ جو جنگجو عراق میں آئی ایس اور داعش سے لڑنے میں اس کی مدد کررہے ہیں ،انہیں واپس لوٹ جانا چاہئے کیونکہ لڑائی اب تقریباً ختم ہورہی ہے۔

مسٹر ٹلرسن نے سعودی عرب میں اپنے ایک بیان میں کہا-’’ایران کے جنگجوؤں کو عراق سے چلے جانا چاہئے،اس کے علاوہ جو دوسرے غیر ملکی جنگجو عراق میں موجود ہیں انہیں بھی واپس چلے جانا چاہئے،تاکہ عراق کے لوگ ان علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرسکیں جنہیں آئی ایس کے قبضہ سے چھڑایا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے غیر ملکی لڑاکو کی واپسی ہوگی تب ہی وہاں کے شہریوں کی زندگیاں دوبارہ ڈھرے آسکیں گی۔

عراق سے واپس لوٹیں ایرانی جنگجو: ریکس ٹلرسن

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن: فائل فوٹو۔

سعودی عرب میں یہ بیان دینے کے بعد امریکی وزیر خارجہ قطر کی راجدھانی دوحہ پہنچے ۔یہا ں مسٹر ٹلرسن نے کہا کہ عراق میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کیلئے کرد جنگجوؤں کو متحد ہونا چاہئے۔ عراق کے وزیر اعظم حیدرالعبادی کی حمایت کرتے ہوئے مسٹر ٹلرسن نے کہا-’’وزیر اعظم حیدرالعبادی کا اپنے ملک اور فوجی مہمات پر مکمل کنٹرول ہے۔انہیں اپنی آئینی ذمہ داریاں معلوم ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ آئین پر پوری طرح عمل ہوگا‘‘۔  امریکہ وزیرخارجہ کے اس بیان پر ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراقی شیعوں نے اپنی قربانی نہ دی ہوتی تو آئی ایس بغداد پر راج کررہا ہوتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز