امریکہ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے باہر ہونے کا نوٹس جاری کیا

واشنگٹن۔ امریکی وزارت خارجہ نے سرکاری طور پر ایک نوٹس جاری کرکے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے باہر ہو جائے گا۔

Aug 05, 2017 08:53 AM IST | Updated on: Aug 05, 2017 08:53 AM IST

واشنگٹن۔ امریکی وزارت خارجہ نے سرکاری طور پر ایک نوٹس جاری کرکے اقوام متحدہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے باہر ہو جائے گا۔ تاہم، اقوام متحدہ کو ارسال کردہ نوٹس میں امریکہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اگر امریکہ کے لئے اس معاہدے کی شرائط کو بہتربنایا گیا تو وہ بات چیت کے عمل میں شامل رہے گا۔ وزارت خارجہ نے کل ایک پریس ریلیز جاری کرکے کہا کہ امریکہ مسلسل موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی ہونے والی ملاقاتوں میں حصہ لیتا رہے گا۔ امریکہ کو پیرس موسمیاتی تبدیلی معاہدے سے باہر ہونے میں کم از کم تین سال کا وقت لگے گا۔

وزارت خارجہ نے اپنی ریلیز میں کہا کہ امریکہ آب و ہوا سے متعلقہ پالیسی کے لئے ایک ایسے متوازن نقطہ نظر کی حمایت کرتا ہے جو اقتصادی ترقی کو فروغ دینے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے علاوہ اخراج کو کم کرتا ہے۔ یہاں واضح کرتے چلیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جون میں پیرس موسمیاتی معاہدے سے باہر ہونے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ نے پیرس موسمیاتی معاہدے سے باہر ہونے کا نوٹس جاری کیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ: فائل فوٹو

اس معاملے میں بین الاقوامی سطح پر ان کی کافی تنقید ہوئی تھی۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ امریکہ کو 'سزا' دیتا ہے اور امریکہ میں اس کی وجہ سے لاکھوں روزگار چلے جائیں گے۔ مسٹر ٹرمپ نے اس معاہدے سے امریکہ کو اربوں ڈالر کا نقصان ہونے کے علاوہ تیل، گیس، کوئلہ اور مینوفیکچرنگ کی صنعتوں میں رکاوٹ آنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ گذشتہ ماہ مسٹر ٹرمپ نے پیرس میں فرانس کے صدر امینویل میخراں سے ہوئی ملاقات کے دوران اس معاہدے پر بات چیت بھی کی تھی۔

امریکہ کی جانب سے کئے گئے اس اعلان کو علامتی طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیرس موسمیاتی معاہدے سے الگ ہونے کی خواہش رکھنے والا کوئی بھی ملک چار نومبر 2019 سے پہلے سرکاری طور پر اپنے مقصد کوظاہر نہیں کر سکتا ہے۔

اس کے بعد معاہدے سے الگ ہونے کے عمل میں ایک سال کا مزیدوقت لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ عمل سال 2020 میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے کئی ہفتے بعد پورا ہوگا۔ غور طلب ہے کہ سابق امریکی صدر براک اوبامہ نے پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مسٹر اوبامہ نے 2025 تک اس میں 28 فیصد تک کی کمی کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز