امریکی صدر ٹرمپ کی اسرائیل کو تنبیہ ، آباد کاری معاملہ میں تحمل برتے ، نہیں تو کھٹائی میں پڑسکتا ہے امن عمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اسرائیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو آباد کرنے میں تحمل سے کام لے،اگر ایسا نہیں ہوا تو عمل کا معاملہ کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔

Feb 12, 2018 11:29 AM IST | Updated on: Feb 12, 2018 11:29 AM IST

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار اسرائیل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو آباد کرنے میں تحمل سے کام لے،اگر ایسا نہیں ہوا تو عمل کا معاملہ کھٹائی میں پڑسکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی آبادکاری کے معاملہ میں احتیاط سے کام لے کیونکہ اس سے امن عمل پیچیدگی کا شکار ہو سکتا ہے۔انھوں نے ایک اسرائیل اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ فلسطین اور اسرائیل کے امن مذاکرات کے لیے فی الحال راضی ہیں۔امریکی صدر نے گذشتہ برس دسمبر میں امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کر کے فلسطینیوں کو ناراض کر دیا تھا۔اس کے علاوہ انھوں نے فلسطین کی امداد روکنے کی بھی دھمکی دی۔

اسرائیلی اخبار’ یسرائیل ہیوم ‘کے ایڈیٹر کی جانب سے ممکنہ امریکی امن منصوبے کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا-’ ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔ اس وقت فلسطین امن عمل شروع نہیں کرنا چاہتے۔ اسرائیل کے حوالہ سے بھی میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بھی اس میں کوئی دلچسپی ہے اس لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔‘‘یہودی بستیوں کے امن منصوبے کا حصہ ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا’ ’ہم ان بستیوں سے متعلق بات کریں گے۔ ان بستوں نے چیزوں کو ہمیشہ پیچدہ بنایا اور میرا خیال ہے کہ اسرائیل کو ان بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے محتاط ہونا چاہیے۔ ‘‘

امریکی صدر ٹرمپ کی اسرائیل کو تنبیہ ، آباد کاری معاملہ میں تحمل برتے ، نہیں تو کھٹائی میں پڑسکتا ہے امن عمل

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ: فائل فوٹو۔

مشرقی یروشلم اور مغربی پٹی میں 1967 کے بعد سے تعمیر کی جانے والے یہودی بستوں میں چھ لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ آبادکاری غیر قانونی ہے تاہم اسرائیل اس بات کی مخالفت کرتا ہے۔یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا کہنا تھا یروشلم کا دارالحکومت ہونا بہت سے لوگوں کے لیے ایک اہم چیز تھی۔ میں نے ایک اہم وعدہ کیا تھا جو میں نے پورا کیا۔‘

اسرائیل کا دعوی ہے کہ یہ پورا شہر اس کا دارالحکومت ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مشرقی یروشلم ان کا علاقہ ہے جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کر لیا۔فلسطینی رہنما محمود عباس نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کے بعد امریکہ کو مزید ثالث کی حیثیت سے قبول نہیں کریں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز