یروشلم تنازع : اقوام متحدہ میں کرکری سے بوکھلایا امریکہ ، عالمی برادری کو پھر دھمکی ، کہا : ہمیشہ یاد رہے گا

Dec 22, 2017 01:10 PM IST | Updated on: Dec 22, 2017 01:10 PM IST

نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی گئی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میںترکی اور یمن کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے حق میںہندوستان سمیت 128 ممالک نے ووٹ ڈالے جب کہ محض 9 ممالک ہی امریکہ کے ساتھ کھڑا نظر آیا اور 35 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ میں اپنی کرکری سے امریکہ پوری طرح بوکھلا گیا ہے ۔ امریکہ نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ امریکہ اس فیصلہ کو ہمیشہ یاد رکھے گا ۔ ووٹنگ کے بعد امریکی سفارتکار نیکی ہیلی نے کہا کہ امریکہ اسے ہمیشہ یاد رکھے گا ، ہمیں اقوام متحدہ میں دنیا کا سب بڑا کام کرنے کیلئے بلایا جاتا ہے ، ہم اسے یاد رکھیں کہ کچھ ممالک نے اپنے فائدے کیلئے ہمارے اثر کا استعمال کیا ہے ۔ نیکی ہیلی نے اس فیصلہ کو امریکہ کی بے عزتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سفارت خانہ یروشلم تو جائے گا ہی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ووٹ فرق پیدا کرتے ہیں کہ امریکیوں نے اقوام متحدہ کو کیسے دیکھا اور ہماری بے عزتی کرنے والے ممالک ہمیں کیسے دیکھتے ہیں ۔ یہ ووٹ یاد رکھا جائے گا۔

یروشلم تنازع : اقوام متحدہ میں کرکری سے بوکھلایا امریکہ ، عالمی برادری کو پھر دھمکی ، کہا : ہمیشہ یاد رہے گا

قابل ذکر ہے کہ ووٹنگ سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی دھمکی دی تھی کہ اس کے فیصلہ کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک کی مالی امداد روک لی جائے گی۔ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فیصلے کی مخالفت کرنے والے ہم سے لاکھوں ڈالر اور یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور اس کے بعد بھی ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں، ہم اس ووٹنگ کو دیکھ رہے ہیں، اگر ہمارے خلاف ووٹ دیا گیا تو اس کی کوئی پروا نہیں ہم بہت سے پیسے بچا لیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 6 دسمبر کو مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارتخانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی صدر کے اس اعلان پر نہ صرف مسلم ممالک میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا بلکہ یورپی اور مغربی ممالک میں بھی اس فیصلے کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ترکی میں ہوا جس میں امریکی صدر کے فیصلے کی شدید مذمت کی گئی اور ڈونلڈ ٹرمپ سے فیصلہ فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز