این جی او سے متعلق مصر کے قانون پر امریکی سنیٹروں کی تنقید

Jun 01, 2017 03:42 PM IST | Updated on: Jun 01, 2017 03:42 PM IST

واشنگٹن۔  امریکی کانگریس کے تین ریپبلکن سنیٹروں نے مصر میں غیر سرکاری تنظیموں (این جی او) کی سرگرمیوں کو منظم کرنے کے لئے نافذ کئے گئے نئے قانون پر تنقید کرتے ہوئے اسے حقوق انسانی کے خلاف وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ مصر میں صدر عبدالفتاح السیسی کی منظوری کے بعد یہ نیا قانون پیر کے روز نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں کو صرف ترقیاتی اور سماجی کاموں تک محدود کردیا گیا ہے اور اس کی تعمیل نہ کرنے پر پانچ سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ مصر کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ ملک کی قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے یہ قانون لازمی تھا۔ مصر کی حکومت طویل عرصے سے حقوق انسانی تنظیموں پر غیر ملکی فنڈ حاصل کرکے انہيں ملک میں افراتفری پھیلانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ چند این جی او تنظیموں کے خلاف اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں۔

امریکی سنیٹر جان میک کین اور لنڈسے گراہم نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ صدر عبد الفتاح السیسی کا وحشیانہ قانون کو منظو ر کرنے کا فیصلہ مصر میں حقوق انسانی اور پرامن بقائے باہمی کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائی کی علامت ہے۔ امریکی سنیٹ کی مسلخ خدمات کمیٹی کے چیئرمین مسٹر میک کین اور لنڈسے گراہم نے کہا کہ اس کے جواب میں امریکی کانگریس کو جمہوری ضابطوں کو مضبو بناتے ہوئے مصر کو دی جانے والی امریکی امداد سے متعلق حقوق انسانی کی شرطیں سخت کردینی چاہئے۔ ان کے اس موقف کی تائید ایک دوسرے سنیٹر مارکو روبیو نے بھی کی ہے ، جو سنیٹ کی بیرونی رابطہ کمیٹی کے رکن ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون مصر کی اصلاحات نافذ کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوگا اور اس سے مصر-امریکہ تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

این جی او سے متعلق مصر کے قانون پر امریکی سنیٹروں کی تنقید

مصری صدر عبدالفتح السیسی: تصویر رائٹرز، فائل فوٹو

انہوں نے کہا کہ یہ قانون مصر میں آزاد سول سوسائٹی پر براہ راست حملہ ہے۔ واضح رہے کہ مشرق وسطی میں مصر امریکہ کا اہم اتحادی ملک ہے، جس کو امریکہ سالانہ 1.3 بلین ڈالر فوجی مدد کے طورپر فراہم کرتا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز