نسل کشی کسی کیلئے موجب فخر نہیں، اہل ہند سیکولرزم کے پابند : حامد انصاری

آج کی دنیا کو جینے، ڈھنگ سے جینے، پرامن طور پر جینے اور کسی انسانی یا فطری خطرات اور اندیشوں کے بغیر جینے کے محاذ پر آزمائشوں کا سامنا ہے۔

Apr 26, 2017 03:50 PM IST | Updated on: Apr 26, 2017 03:50 PM IST

یریوان: نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے آج یہاں یریوان اسٹیٹ یونیورسٹی میں امن اور ہم آہنگی کے رخ پر طلبہ سے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی دنیا کو جینے، ڈھنگ سے جینے، پرامن طور پر جینے اور کسی انسانی یا فطری خطرات اور اندیشوں کے بغیر جینے کے محاذ پر آزمائشوں کا سامنا ہے۔ اپنے خطبے میں انہوں نے طلبہ کو جہاں کل کی دنیا کے تعلق سے اپنی انسانی ترقی اور بہبود رخی خیالات سے بہرہ ور کیا ، وہیں طلبہ کے بعض چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب بھی دئیے۔ ایک طالبہ نے جب ان سے پوچھا کہ کل آپ نے دنیا کی جس اولین نسل کشی کی یادگار پر حاضری دی ہے ، اس کے لئے آپ کسے ذمہ دار گردانتے ہیں ، تو مسٹر انصاری نے کہا کہ معصوموں کے قتل پر دو آرا ہر گز نہیں ہو سکتیں جو غلط ہے وہ غلط ہے اور یہ تو ایک ایسا واقعہ تھا ، جس پر کوئی فخر نہیں کر سکتا۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کہ ہندستان کے لوگ سیکولرزم کے پابند ہیں اور دستور ہند تمام تر بنیادی انسانی حقوق کا ضامن اور پاسدار ہے باوجودیکہ تشدد کے واقعات ہوتے ہیں جو ایک سچائی ہے جسے بہر حال عام تائید حاصل نہیں۔ ایک آرمینائی طالبہ نے زبان کے حوالے سے مسٹرانصاری سے جب ہندی میں بات کی تو پورا حال حیرت اورر خوشی کے ملے جلے تاثرکا پیکر بن گیا۔ نائب صدر نے اس بچی سے کہا کہ دنیا کی ہر زبان رابطے کی زبان ہے جس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشن اور اس کے ہم پلہ دوسرے ملکوں کے اداروں کو اس محاذ پر آگے بڑھ کر کام کرنا چاہئے۔

نسل کشی کسی کیلئے موجب فخر نہیں، اہل ہند سیکولرزم کے پابند : حامد انصاری

تعلیم اور سائنس کے آرمینیائی وزیر مسٹر لیوم میکرتچیان اوریونیوررسٹی کے وائس ریکٹرمسٹر گیگھم گیورگیان اور دوسرے ذمہ داران کی موجودگی میں نائب وزیر اعظم نے تعلیمی ادارووں کی اہمیت پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم پر جن ملکون نے سرمایہ کاری کی ہے انہیں معاشرتی انقلابات کا سامنا کرنے مین کامیابی ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تکنالوجیائی ترقی کے تازہ موڑ پر بعض نئی تیکنالوجیاں جو انسانی ترقی اور وسائل کے فروغ کو متاثر کرین گی ان میں توانائی، سائبر تیکنالوجی، روبوت سائنس، مصنوعی ذہانت سے خلائی تحقیق تک کئی علوم شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ انہون نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں ان سب کو جغعرافیائی اور سیاسی مضمرات کا سامنا رہے گا۔ اس موقع پر ہند آرمینیائی تعلقات کے رخ پر نائب صدر کی بے پایاں عوامی اور سیاسی خدمات کے اعتراف میں انہیں یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز